نئی دہلی سے بھوانیشور جانے والی راج دھانی ایکسپریس کے مسافر۔ اس ٹرین کو ماؤ نوازوں کو اغوا کر لیا تھا
بھارت کی مشرقی ریاست بنگال میں تقریباً پانچ گھنٹوں کے بعد راج دھانی ایکسپریس کے ہائی جیکنگ کے ڈرامے کا پُرامن اختتام ہوگیا۔
ساڑھے سات بجے شام کے قریب مرکزی اور صوبائی فورسز نے مغربی بنگال کے مدھناپور کے جنگلوں میں رکی ہوئی ٹرین کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ سیکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے قبل ہی ماؤنوازوہاں سے فرار ہوگئے تھے۔
اس سے قبل ماؤنوازوں نے ‘راج دھانی’ نامی ایکسپریس ٹرین کو مغربی بنگال کے ایک گاؤں سے ہائی جیک کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ مغربی بنگال کے مدھناپور ضلعے کے بانسٹولا کے مقام پر ہوا۔ یہ علاقہ گھنے جنگلوں سے گھِرا ہوا ہے اور جھاڑکھنڈ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
ریل گاڑی کے ایک نائب ڈرائیور نے ٹیلی فون سے خبر دی کہ تقریباً دو بجے دن کے قریب ماؤنوازوں نے سرخ جھنڈیاں دکھا کر اُنھیں ٹرین کو رکنے پر مجبور کیا۔ٹرین رُکتے ہی ماؤنوازوں نے ڈرائیور اور اُس کے نائب کو ریل گاڑی سے اتار باہر کیا۔
بھارت کے وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے بتایا کہ ٹرین محفوظ ہے اور تمام مسافر بھی محفوظ ہیں اور اب وہاں پر کسی قسم کے خطرے کی کوئی بات نہیں۔
ریل گاڑی کے مسافروں نے بتایا کہ ماؤنوازوں نے اُنھیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ تاہم چونکہ رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا اور ٹرین ویران جنگلوں کے درمیان کھڑی تھی، اِسی لیے تمام لوگ کافی خوف زدہ تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ریلیف ٹرین بھی بھیجی گئی جِس میں طبی امداد شامل تھی۔
راج دھانی ایکسپریس کی رہنمائی کے لیے ایک انجن بھی بھیجا گیا تھا تا کہ پٹریوں کی جانچ کرکے پتا لگایا جاسکے کہ کہیں تخریب کاروں نے آگے بارودی سرنگیں تو نہیں بچھا رکھی ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ رات دس بجے ٹرین نے تقریباً ساڑھے سات گھنٹوں کے تعطل کے بعد اپنا سفر دوبارہ شروع کیا تب جاکے مسافروں نے سکون کا سانس لیا۔ اِس سے قبل صوبے کے وزیرِ اعلیٰ نے قبائلی لیڈر چھترا دھر مہاتوکی رہائی کا ماؤنوازوں کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔