بھارتی حکومت نےتبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما کے ریاست ارونا چل پردیش میں واقع ایک بدھ خانقاہ کے دورے کے وقت غیر ملکی میڈیا پر اُس کی کوریج کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
چین کو دلائی لاما کے تاوانگ نامی مقام پر واقع اِس خانقاہ کے دورے پر اعتراض ہے۔ دلائی لاما نے حال ہی میں جاپان میں اِس بات کی تردید کی تھی کہ اُن کے دورے کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔
بھارتی حکومت کی طرف سے سفر پر لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئےجنوبی ایشیا کے غیر ملکی نامہ نگاروں کی انجمن نے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں مایوسی کا اظہار کیا۔
ہیتھر ٹِمنز ‘نیو یارک ٹائمز’ کی نامہ نگار اور انجمن کی سربراہ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نےدلائی لاما کے اروناچل پردیش کے دورے کے کوریج کے لیے اجازت نامے جاری نہیں کیے، لیکن ریاستی حکومت نے اجازت دی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستی حکومت کے جاری کردہ اجازت ناموں کو منسوخ کرنے پر انھیں حیرت اور مایوسی ہوئی ہے۔
امریکی، برطانوی اور دوسرے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندے جِن میں وائس آف امریکہ بھی شامل ہے اس خطے میں کوریج کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بظاہر یہ پابندیاں بھارتی صحافیوں پر نہیں لگائی گئیں۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ملک کی وزارتِ خارجہ کی صواب دید پر منحصر ہے کہ اس بات کا فیصلہ کرے کہ کون سے غیر ملکی نامہ نگار اروناچل پردیش سفر کرسکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کی طرف سے ٹِمنز نے بھارتی وزارتِ خارجہ کے عہدےداروں سےملاقات کی، جِنھوں نے اُنھیں بتایا کہ سفر کے لیے کی گئی درخواستوں کے بارے میں وہ ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔
اُنھوں نے ملنے والے جواب کو یہ کہتے ہوئے حیران کُن قرار دیا کہ جب ایک برس قبل ممبئی پر حملہ ہوا تھا تو وزارت نے 48گھنٹوں کے اندر اندر 200غیر ملکی صحافیوں کو ویزا جاری کردیے تھے۔