ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

جنوبی ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

چارسدہ میں خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 28 ہلاک، درجنوں زخمی

شیئر کیجیئے

منگل کو چارسدہ کے مصرف ترین فاروق اعظم چوک میں زوردار کار بم دھماکا ہوا جِس  میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 28ہوگئی ہے۔



رکن صوبائی اسمبلی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما فضل غفور خان اور حکام کے مطابق  زخمیوں کی تعداد 80کے لگ بھگ ہے جِن کا پشاور اور چارسدہ کے ہسپتالوں میں علاج کیا جارہا ہے۔  ڈاکٹروں کے بقول اُن میں سے بعض کی حالت  تشویش ناک ہے۔



دھماکے کے بارے میں ضلعی عہدے دار ریاض خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بم میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد 35تا40کلوگرام  کا تھا۔



پچھلے تین دِنوں کے دوران  پشاور اور اُس کے گِردو نواح میں دہشت گردی کا یہ تیسرا واقعہ ہےاور صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کا ردعمل ہیں۔



پشاور کے نواحی علاقے متنی میں اتوار کے روز اور رِنگ روڈ پر پیر کے روز ہونے والےخودکش بم دھماکوں میں مجموعی طور پر یونین کونسل ناظم ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔



چارسدہ ،عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ  اسفندیار ولی خان  کا آبائی ضلع ہے اور یہاں پر عسکریت پسندوں نے پہلے بھی  بم دھماکے کیے ہیں،  جب کہ گذشتہ سال یہاں پر ایک ایسے ہی خودکش حملے میں اسفندیار ولی بال بال بچ گئے تھے۔



وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے چارسدہ میں ہونے والے دھماکے کے بعد منگل کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ دہشت گردی کی ایسی مزید کارروائیاں ہوسکتی ہیں کیونکہ پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان میں اِن عناصر کے اڈوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہے۔



 واضح رہے کہ ایک روز قبل پشاور کے مشہور رنگ روڈ پر رکشے میں سوار خودکش بمبار نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جِس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔  اتوار کو صوبائی دارالحکومت کے مضافات میں متنی کے علاقے میں ایک خودکش حملے میں حکومت کے حامی ایک مقامی ناظم عبدالمالک سمیت 16افراد مارے گئے تھے۔



یہ حملے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب جنوبی وزیرستان میں فوج نے طالبان کے خلاف تازہ لڑائی میں مزید نو مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس کے علاوہ فوجی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا ہیڈکوارٹر سمجھے جانے والے قصبے مکین میں فوجی اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہے ہیں ۔ تاہم جنوبی وزیرستان میں فوج کی پیش قدمی اور عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کے بار ے میں سرکاری اعدادوشمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں۔