افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی
افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی نے ایک امریکی اخبار کی اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انھیں امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے سے رقوم ملتی ہیں۔
احمد ولی کرزئی بدھ کے روز ممتاز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کا ذکر کر رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ گذشتہ آٹھ سال کے بیشتر حصے سے آئے اے کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔
اخبار نے بیان کیا ہے کہ سی آئی اے ابھی تک احمد کرزئی کو رقوم ادا کرتی ہے، اور ان کی خدمات میں سی آئی اے کی سرپرستی میں چلنے والی پیرا ملٹری فوج میں افغانوں کو بھرتی کرنا اور سی آئی اے کے ایجنٹوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنا ہے۔
احمد کرزئی پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں ہیروئن کے دھندے میں ملوث ہیں۔
اخبار نے احمد کرزئی کی تردید شائع کی ہے کہ انھیں سی آئی اے کی طرف سے رقوم ملتی ہیں اور نہ ہی ان کا افیم کے کاروبار سے کوئی تعلق ہے جس سے حاصل شدہ رقوم طالبان کی بغاوت میں استعمال ہو رہی ہیں۔
تاہم احمد کرزئی نے اعتراف کیا کہ وہ امریکی خفیہ اداروں کے اہل کاروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں تاہم وہ اس کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتے۔
سی آئی اے کے حکام نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔