’’صدر کرزئی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدام کریں‘‘
الپیسن
|
واشنگٹن
5.11.09
بدھ کے روزامریکہ کےاعلیٰ ترین فوجی افسر نے کہا کہ افغان صدر حامد کرزئی کوبد عنوان سرکاری عہدے داروں کو گرفتار کرنا چاہیئے اوران پرمقدمہ چلانا چاہیئے اوردوسرے اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ ان کی حکومت کی قانونی حیثیت قائم ہوسکے۔
ایڈمرل مائیک ملن Mike Mullen نے یہ اندازہ بھی لگایا کہ اگر صدر باراک اوباما افغانستان کے لیے مزید فوجوں کی منظوری دے دیتے ہیں تو وہاں سکیورٹی اوراستحکام کی حالت اتنی بہتر ہو سکتی ہے کہ اگلے چند برسوں میں امریکی فوجیں واپس آنا شروع ہو جائیں۔
ایڈمرل ملن نے اعلیٰ سرکاری افسروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے دوسرے مرحلےکی منسوخی کے بعد اب صدر کرزئی سرکاری طور پر دوبارہ منتخب ہو گئے ہیں۔ انہیں اب اپنے اختیارات یہ یقین دلانے کے لیےاستعمال کرنے چاہئیں کہ انہیں افغان عوام کا مفاد عزیز ہے۔ انھوں نے کہا’’انھیں بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کوان لوگوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیئے جو بد عنوان ہیں۔ آپ کو انھیں گرفتار کرنا چاہیئے اوران پر مقدمہ چلانا چاہیئے۔ یہ سب اقدامات نظر آنے چاہئیں‘‘۔
ایڈمرل ملن نے کہا کہ امریکی حکومت کو افغانستان میں کرپشن کے بارے میں انتہائی تشویش ہے اوراگراس مسئلے سے نمٹا نہ گیا توامریکہ کی ہی نہیں بلکہ کوئی بھی بین الاقوامی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا ہے’’اگر قانون کی علمبرداری اور نظم و نسق کا معیار قائم نہیں ہوتا تو دنیا بھر کی فوجیں بھی کچھ حاصل نہیں کر سکیں گی۔‘‘
ایڈمرل ملن نے کہا کہ یہ بات جلد ہی واضح ہو جانی چاہیئے کہ کیا صدر کرزئی کرپشن سے جنگ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہیں اوران میں ایسا کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی ایڈمرل ملن نے، جو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین بھی ہیں، اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایک ٹھوس افغان پارٹنر کے ساتھ اورامریکی فوجوں میں اضافے سے افغانستان میں چند برسوں میں ویسی ہی سکیورٹی اور استحکام قائم ہو سکتا ہے جیسا کہ عراق میں 2007 اور2008 میں امریکی فوجوں میں اضافے سے آیا تھا۔ انھوں نے کہا’’ہم وقت کی جس حد کی بات کر رہے ہیں تو ایک طرح سے ہمارے ذہن میں عراق میں فوجوں میں اضافے کی مثال ہے۔ آج کل افغانستان میں جس قسم کے حالات ہیں تو میرے خیال میں فوجوں میں اضافے کا ویسا ہی اثر پڑے گا اور پھر ہم اپنی فوجوں کو بتدریج کم کرسکیں گے اور واپس لا سکیں گے۔‘‘
عراق میں ڈیڑھ سال کےعرصے میں تقریباً 20 ہزارامریکی لڑاکا فوجیوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ صدراوباما آج کل اس بات پر غور کررہے ہیں کہ افغانستان میں مزید فوجی بھیجے جائیں یا نہیں۔ امریکہ اورنیٹو کے کمانڈر جنرل سٹینلی میکرسٹل Stanley McChrystal نے کہا ہے کہ اگر مزید فوجی نہ بھیجے گئے تو اتحادیوں کی کوشش ناکام ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ انھوں نے 68ہزارامریکی اور40 ہزار دوسر ے ملکوں کے فوجیوں کے علاوہ جو وہاں پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں مزید 40 ہزار یا اس سے بھی زیادہ فوجی مانگے ہیں۔
ایڈمرل ملن کہتے ہیں کہ مزید فوجیوں کو عام افغان باشندوں کو زیادہ سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ امید یہ ہے کہ عام افغان باغیوں کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان علاقوں میں جہاں صدر اوباما نے اس سال کے شروع میں مزید فوجی تعینات کیے تھے، ایسا پہلے ہی ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ بالآخر اس مسئلے کا تعلق عوام سے ہے۔ بغاوت کے خلاف تحریک میں افغانستان کے لوگ بُرے لوگوں کو نکال باہر کریں گے۔ یہ کام فوجی کارروائی سے نہیں ہوگا۔ ہمیں اس قسم کے مثبت آثار ہلمند میں نظر آنے لگے ہیں جہاں میرین فوجی جولائی میں گئے تھے۔ وہاں، مثال کے طور پر، Nawa نامی ایک مقام پر بازار کھلا ہے۔ جہاں سکیورٹی موجود ہے لوگوں میں بغاوت کے خلاف اس قسم کا ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے‘‘۔
ایڈمرل ملن کہتے ہیں کہ اگرچہ عراق اور افغانستان کے حالات کا موازنہ کرنا پوری طرح تو صحیح نہیں ہوگا لیکن کچھ سبق بہر حال سیکھے جا سکتےہیں۔
دونوں ملکوں میں فوجیں اچھی طرح ترقی کر رہی ہیں جب کہ پولیس فورس میں کرپشن ہے لیکن اس میں ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ملکوں میں اقتصادی ترقی کے امکانات موجود ہیں جن سے خوب فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے بشرطیہ کہ سکیورٹی کی حالت بہتر ہو جائے۔ لیکن انھوں نے یہ بات دہرائی کہ صرف فوجوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا۔ غیر ملکی سویلین کارکنوں میں اضافہ بھی ضروری ہے جو اقتصادی ترقی اور بہت سے دوسرے مسائل کے حل میں ہاتھ بٹا سکیں۔