افغانستان کے نو منتخب صدر حامد کرزئی نے اپنے سیاسی مخالفین کو اپنی نئی حکومت میں شامل کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک بہتر طرز حکمرانی اور بدعنوانی کے خاتمے کی اصلاحات کو نافذ کریں گے ۔ اس عزم کا اظہار انھوں نے منگل کو کابل میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کیا۔افغان صدر کا کہنا تھا کہ وہ ملک کے تمام حصوں سے لوگوں کو اپنی حکومت میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر کرزئی کے واحد حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرف سے انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دستبرداری کے اعلان کے بعد ایک روز قبل خود مختار افغان الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کو منسوخ کرتے ہوئے حامد کرزئی کو فاتح قرار دیا تھا۔
قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے ٹیلی فون پر صدر کرزئی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بدعنوانی سے پاک بہتر طرز حکمرانی کوفروغ دینے کے ساتھ ساتھ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کو کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تا کہ افغانوں کو ان کی اپنی سکیورٹی فراہم کی جاسکے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افغان صدر نے انہیں یقین دلایا کہ وہ وقت کی ضرورت سے آگاہ ہیں تاہم صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انھوں نے صدر کرزئی پر واضح کردیا ہے کہ تبدیلی صرف زبانی جمع خرچ نہیں ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد حامد کرزئی پر مغرب کی طرف سے بدعنوانی کے خاتمے اور بہتر طرز حکمرانی کے مطالبے اس لیے دہرائے جارہے ہیں کیونکہ ان کی گزشتہ حکومت میں بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیاں اپنی حدوں کو چھوتی رہی ہے۔ خصوصاً ملک میں منیشات کی پیداواراور اس کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے شدت پسندوں کی دوبارہ بڑھتی ہوئی طاقت سے مغربی ملکوں کی تشویش میں بھی اضافہ ہوا۔
دریں اثنا پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنے افغان ہم منصب کو دوبارہ منتخب ہونے پر تہنیتی پیغام میں افغان حکومت اور عوام کے ساتھ مل کر اس کی ترقی میں اپنے تعاون کا اظہار کیا۔