عبداللہ کی طرف سے دوسرے انتخابی مرحلے کے بائیکاٹ کی اطلاعات
31.10.09
افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے قریبی سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور ذرائع کے مطابق سابق وزیر خارجہ آئندہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔
مغربی ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق عبداللہ کی طرف سے اس انتخابی مرحلے سے دستبرداری کا اعلان ہفتے کو متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سربراہی میں قائم انتخابی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے 20 اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی رپورٹ کے بعد انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد سات نومبر کو ہورہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما اس مرحلے کے بعد ہی فیصلہ کریں گے کہ آیا افغانستان میں مزید فوج بھیجی جائے یا نہیں۔
جمعے کو صدر اوباما نے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے علاوہ بری،بحری اور فضائی افواج کے سربراہان سے اس بارے میں ملاقات کی ہے۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس ملاقات میں عسکری قیادت نے فوج اور اس کی حکمت عملی کے حوالے سے کھل کر بات چیت کی۔ عہدیدار کے مطابق جمعے کی اس ملاقات میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے سربراہ جنرل سٹینلی میکرسٹل ملک میں طالبان شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے امریکی صدر سے 40 ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کرچکے ہیں۔