افغان صدر حامد کرزئی آئندہ تین ہفتوں میں اپنی نئی کابینہ کا اعلان کریں گے جس میں تعلیم اور دیگر شعبوں کے ماہرین کے علاوہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے موجودہ کابینہ کے چند وزراء بھی شامل کیے جائیں گے۔
دریں اثنا صدارتی انتخابات میں صدرکرزئی کے قریبی حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ ، جو انتخابات کے دوسرے مرحلے سے دست بردار ہوگئے تھے، نے نئی کابینہ میں کسی بھی طرح کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔
بدھ کے روز کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انہیں نئی کابینہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہ ”تبدیلی“ کے اپنے ایجنڈے پر کام کرتے رہیں گے۔ ڈاکٹر عبداللہ نے الزام لگایا کہ غیر قانونی طریقے سے معرض وجود میں آنے والی حکومت کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے گی۔
واضح رہے کہ 20اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے باعث سات نومبر کو انتخابات کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا گیا تھا۔ افغان الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر عبداللہ کی طرف سے دست برداری کے فیصلے کے بعد دوسرے مرحلے کو منسوخ کرتے ہوئے حامد کرزئی کو فاتح قراردے دیا تھا۔
ایک روز قبل امریکی صدر باراک اوباما نے افغان صدر کرزئی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے اور بہتر طرز حکمرانی سے افغان تاریخ میں ایک نیا باب رقم کریں جب کہ صدر کرزئی نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اصلاحات کے ذریعے ملک کے نظام میں بہتری لانے کی یقین دہائی کرائی تھی۔
صدارتی انتخابات کا تنازعہ حل ہونے کے بعد مبصرین کے مطابق افغانستان میں سیاسی غیر یقینی تو کسی حد تک ختم ہوگئی ہے لیکن دوسری طرف طالبان کی شدت پسند وں کے حملوں میں آئے دن اضافہ صدر کرزئی اور ان کے بین الاقوامی اتحادیوں کے لیے بلاشبہ ایک بڑا چیلنج بنتا جارہا ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2001ء کے اواخر میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعدسے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے لیے رواں سال سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔