ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

جنوبی ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسیوں کا جائزہ

شیئر کیجیئے

افغانستان میں صدارتی انتخاب کا ڈرامہ ختم ہو گیا ہے اوراب اوباما انتظامیہ غورکررہی ہے کہ وہاں کیا پالیسی اختیار کرے۔  نئی صورتِ حال میں ممکن ہے کہ بعض معاملات میں انتظامیہ کو آسانی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کے بعض نئی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں۔

افغانستان کا الیکشن ایک ایسی سنسنی خیز فلم کی مانند تھا جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر اچانک ختم ہو گیا۔  جب صدر کرزئی کےحریف عبداللہ عبداللہ نے خود مقابلے سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا تو انتخابات کا دوسرا مرحلہ منسوخ کرنا پڑا۔  ڈاکٹرعبداللہ نے الزام لگایا کہ ''پہلی بارووٹنگ کے نظام میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے جو دھاندلیاں ہوئی تھیں اورجن کی وجہ سے دوسرا مرحلہ ضروری ہو گیا تھا، وہ اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے یہ بھی اتنا ہی ناقص ہوگا''۔

امریکی محکمۂ خارجہ میں جنوبی ایشیا  کی سابق ڈپٹی سکریٹری ٹریسیٹا شیفر(Teresita Schaffer) کہتی ہیں کہ الیکشن کی بے قاعدگیوں سے بین الاقوامی برادری کو سخت مایوسی ہوئی ہے جس نے انتخاب سے بڑی امیدیں وابستہ کرلی تھیں۔  ان کا کہنا ہےکہ’’اقوامِ متحدہ، امریکہ اوردوسرے بہت سے ملکوں نے افغانستان میں حکومت کے استحکام کے لیے اور وہاں منظم انداز سے آئین کی بنیاد پر حکومت کے قیام کے لیے بہت سی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔ لیکن جس پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہےاس سے یہ مقصد حاصل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی ہے‘‘.
 
لیکن افغانستان کے لیے یورپی یونین کی سابق خصوصی مندوب فرانسس ونڈل (Francese Vendell)  کا کہنا ہے کہ  بین الاقوامی کمیونٹی اس کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتی کہ نا خوشگوار حالات کو جس حد تک ہو سکے بہتر بنانے کی کوشش کرے۔  ان کا کہنا ہے’’میرے خیال میں اس طرح امریکہ کے لیے زندگی اور مشکل ہو جائے گی اگرچہ انتظامیہ اور یورپی ملکوں کی حکومتیں، شاید دعویٰ تو یہی کریں گی کہ اب حالات ٹھیک ہیں۔  کابل میں جو انتظامیہ ہے اس کی قانونی حیثیت مشکوک ہے لیکن کوشش تو یہی کرنی پڑے گی کہ اس کے ساتھ مِل کر کام کیا جائے۔‘‘
 
الیکشن کے نتائج ایسے وقت میں آئے جب اوباما انتظامیہ افغانستان میں امریکہ کی نئی حکمت عملی پر غور میں مصروف تھی۔  افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر جنرل سٹینلی میکرسٹل (Stanley McChrystal)  نے طالبان سے لڑنے کی نئی حکمت عملی کے طورپرمزید فوجیں تعینات کرنے پر زوردیا ہے۔
 
یو ایس آرمی وار کالج کے پروفیسر لیری گوڈسن Larry Goodson کہتے ہیں کہ کرزئی کے دوبارہ منتخب ہو جانے سے بغاوت کو کچلنے کے اندازِ فکر میں پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔  وہ کہتے ہیں ’’میرا تاثر یہ ہے کہ امریکی حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خود کو موجودہ حالات سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں یعنی اس خیال سے کہ افغانستان میں اصل کام یہ ہے کہ باغیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔  تو بات یہ ہے کہ بغاوت کے خلاف کارروائی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں کوئی جائز قانونی حکومت موجود ہو۔  موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔  اس لیے ہمیںایسی حکومت کی قانونی حیثیت کو درست بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘
 
لیکن ایسی حکومت کو قانونی حیثیت کِس طرح دی جا سکتی ہے جس نے دھاندلی سے انتخاب جیتا ہو اورجس کا دامن کرپشن سے داغدارہو۔  شیفرکہتی ہیں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کی کارکردگی اچھی ہو۔ افغانستان میں حکومت کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی حکومت کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنائے۔  کرزئی حکومت کو بڑے پیمانے پر انتخابات میں جائزحیثیت تو ملنا ممکن نہیں ہے لیکن اگراس کی کارکردگی بہتر ہو جائے تو اسے وہ قانونی حیثیت مِل سکتی ہے جو اچھا کام کرنے سے آتی ہے ۔ اس وقت ان کے سامنے چیلنج یہی ہے۔
 
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ  کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اورحکومت لوگوں کو خدمات فراہم کرے۔
 
 گوڈسن کی تجویز یہ ہے کہ دوسرے اقدامات کے علاوہ صدر کرزئی کو اپنے بعض اختیارات چھوڑ دینے چاہئیں۔ ’’میری سفارش یہ رہی ہے کہ ہم کرزئی کو سربراہِ مملکت کا کردار دے دیں اور موجودہ حکومت میں ایسے لوگوں کو جو کم بدعنوان ہیں اورجن کی ٹیکنیکل استعداد اورکارکردگی بہتر ہے، وزارتوںمیں لائیں اور گورنروں کے عہدے دیں۔ اہم مقامی سیاسی لیڈروں کو اختیارات دینے کی کوشش کریں۔ اس عمل کے دوران آپ کو بد عنوانیوں کو ختم کرنا ہوگا اورسرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔‘‘
 
اپنی فتح کے بعد صدرکرزئی نے بد عنوانی سے نمٹنے کا عہد کیا لیکن انھوں نے ایسا کرنے کے لیے مخصوص  اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی۔  صدر اوباما نے کہا کہ افغان لیڈرکے ارادوں کا ثبوت الفاظ سے نہیں بلکہ افعال سے ملے گا۔