ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کہنا ہے کہ واشنگٹن برما کے ساتھ اپنے رابطے بہتر بنانے کے لیے تیار ہے لیکن فوجی حکمرانی کے اس ملک میں جمہوریت کی سمت حقیقی پیش رفت تک اس پر عائد پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی۔
آسیان سے متعلقہ امورپر امریکی سفیر مرسکاٹ مرسیل نے جمعرات کے روز بنکاک میں نامہ نگاروں سے کہا کہ اس سمت پیش قدمی کی کلیدی علامت برما کی حزب اختلاف کی جماعتوں ، فوجی حکومت اور نسلی اقلتی گروپوں کےدرمیان مذاکرات ہیں۔
انہوں نے برمی راہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اگلےسال کے انتخابات سے قبل حزب اختلاف کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی سے مذاکرات کاآغاز کریں۔
امریکی سفیر مرسیل اور معاون وزیر خارجہ کرٹ کیمپبل نے منگل اور بدھ کے روز ملک کے فوجی حکمرانوں، اور اعلیٰ برمی عہدے داروں کے ساتھ گذشتہ 14 برس میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات میں حصہ لیا۔انہوں نے حزب اختلاف کی زیر حراست راہنما آنگ ساں سوچی سے بھی ملاقات کی۔
مسٹر مرسیل نے کہا کہ ان کے اس دورے سے اس الگ تھلگ ملک کے ساتھ امریکی انتظامیہ کی نئی پالیسی کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔