سری لنکا نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کے خلاف ان جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ لے گا جو امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کے وزیر مہندا سمارا سنگھا نے پیر کے روز کہا کہ صدر گذشتہ ہفتے جاری کردہ رپورٹ میں بیان کیے واقعات کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کریں گے۔
رپورٹ میں سری لنکا کے سرکاری فوجیوں اور تامل باغیوں، دونوں پر ایسی کارروائیوں کا الزام لگایا ہے جنہیں جنگی جرائم قرار دیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں سنہالی اکثریتی فوجیوں کی جانب سے ان محفوظ پناہ گاہوں پر گولہ باری کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کا مقصدتامل نسلی اقلیت سے عام شہریوں کو تحفظ دینا تھا۔ رپورٹ میں فوجیوں پر فائربندی توڑنے، ہتھیار ڈالنے والے باغیوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بے گھر افراد کے قائم کیمپوں میں حالات کو بگڑنے دیا۔
رپورٹ میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ تامل باغیوں نے بچوں کو فوجیوں کے طورپر بھرتی کیا اور عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیا۔