انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے سری لنکا میں چند ماہ قبل باغیوں کے خلاف جنگ کے دوران ممکنہ جنگی جرائم کے بارے میں آزادانہ بین الاقوامی تحقیق کرانے کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے کاکہنا ہے کہ اس بارے میں مکمل تحقیقات کی جانی چاہیں کہ ملک کی طویل خانہ جنگی کے آخری دور میں کیا کچھ ہوا تھا اور کیا کچھ نہیں کیا گیاتھا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے کمشنر کے دفتر نے کہا ہے کہ حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان لڑائی کے آخری مراحل سے متعلق بے شمار سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان روپرٹ کولیل نے کہا ہے کہ سری لنکا کے لیےغزہ کی لڑائی سے متعلق حقائق معلوم کرنے جیسے کمشن کی تشکیل کی ضرورت ہے تاکہ جنگ کے دوران حکومت اور باغی تامل ٹائیگرز کے کردارکے حوالے سے بڑے پیمانےپر پھیلے ہوئے تحفظات کی حقیقت کے بارے میں علم ہوسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس لڑائی کے دوران دونوں جانب سے کس نے کس کے ساتھ کیا کیا اور کیا وہ جنگی جرائم کے زمرے میں شمار ہوتا ہےاور کیا ان کا تعلق انسانیت کے خلاف جرائم سے بنتا ہے۔
25 سال تک جاری رہنے والی اس خانہ جنگی کے دوران ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق اس سال کے شروع میں لڑائی کے آخری چند مہینوں کے دوران چھ ہزار پانچ سوافراد لقمہ اجل بنے اور 14 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔
مئی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے سری لنکا کی صورت حال پر ایک خصوصی اجلاس کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے ہائی کمشنر ناوی پیلے ، ایک بار پھر اس بارے میں تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔
سری لنکا سے متعلقہ ایک اور مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ نظر بندی کیمپوں میں رہنے والے ڈھائی لاکھ تاملوں کی حالت بدستور تشویش کا باعث ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کیمپوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہاں بچوں اور دوسرے لوگوں کو ایک دن بھی رکھنا مناسب نہیں ہے ، جب کہ انہیں وہاں رہتے ہوئے کئی مہینے ہوچکے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے ادارے نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ تاملوں کو کیمپوں میں پابندیوں کی صورت حال سے رہائی دے، تاکہ وہ اپنے گھروں کولوٹ کر معمول کی زندگی گذار سکیں۔