بھارتی کشمیر میں ایک عدالتی کمیشن نے کہا ہے کہ بھارتی پولیس کے عہدے داروں نے بھارتی کشمیر میں دو ایسی عورتوں کی موت کے بارے میں شہادتوں کو چھپایا تھا، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے مبیّنہ طور پر جنسی تشدّد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔
بھارتی کشمیر کے قانون اور مالیات کے وزیر عبد الرحیم راٹھور نے ہفتے کے روز نامہ نگاروں کو بتایا ہے کہ چار پولیس افسروں نے شہادت کو ضائع کرکے علاقے کی حکومت کو گم راہ کیا تھا۔ راٹھر نے کہا کہ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ کوئى خصوصی تحقیقاتی ٹیم معّطل پولیس افسروں پر باضابطہ الزامات عائد کرے۔
مئى کے مہینے میں بھارتی کشمیر کے شہر شپیاں میں دو عورتوں کی لاشیں ملی تھیں۔شروع میں پولیس نے کہا تھا کہ یہ عورتیں بظاہر ایک اُتھلے چشمے میں ڈوب کر ہلاک ہوئى ہیں۔جب مقامی لوگوں نے بھارتی سیکیورٹی فورسز پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ان عورتوں پر جنسی تشدّد کرنے کے بعد اُنہیں ہلاک کردیا تو پولیس نے اس کی چھان بین شروع کی۔
اس واقعے کے نتیجے میں بھارتی کشمیر میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔