صوبہٴ بہار کے مختلف علاقوں میں اب تک ‘جاپانی انسفلائٹس’ نامی بیماری سےکم از کم 30افرادہلاک ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
یہ مرض مچھروں کےکاٹنے کےباعث پھیلتا ہے اور اِس مرض کا شکارہونے والے 105افراد کا مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔
حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بہار کی حکومت پر مرض پر قابو پانے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا ہے۔ تاہم، شعبہٴ صحت کے پرنسپل سیکریٹری ایس کے مِشرا کا دعویٰ ہے کہ خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور صوبائی حکومت اِس مرض کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
حکومت نے ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بھیج دی ہیں اور مچھروں کو ختم کرنے کے لیے جگہ جگہ جراثیم کُش دواؤں کا چھڑکاؤ بھی جاری ہے۔
جاپانی انسفلائٹس سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع گَیا، اورنگ آباد اور مُنگیر ہیں۔ اِس عارضے کی روک تھام کے لیے نومبر کے مہینے سے خصوصی ٹیکے لگانے کی مہم بھی چلائی جائے گی۔
سنہ 2008ء میں بہار میں اِس بیماری سے 45بچوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔