ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

جنوبی ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

مسلح گروپ ہتھیار ڈال دیں اور مذاکرات کے لیے آگے آئیں: بھارتی وزیرِ داخلہ

شیئر کیجیئے

بھارتی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی جانب سے فائربندی کی کسی بھی پیش کش پر غور نہیں کرے گی۔

حکومت نےملک کے شمال مشرق میں سرگرم مسلح تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔

وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گرد گروپ بات چیت کے لیے آتے ہیں تو اُن کا خیرمقدم ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مسلح گروپ خود مختار حکومت کے سامنے فائر بندی کی پیش کش نہیں رکھ سکتے۔ اُنھیں چاہیئے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں اور ہتھیار ڈال دیں، اُس کے بعد ہی اُن کی شکایتوں پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

وزیرِ داخلہ آسام کے پہاڑی اضلاع میں نسلی تشدد کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ پی چدم برم نے یہ بھی بتایا کہ اِس اندیشے کے پیشِ نظر کہ ناگا مسلح گروپ آسام کے کاچر نامی علاقے میں نسلی تشدد سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے، مرکزی حکومت نے آسام، منی پور اور ناگالینڈ کی حکومتوں کو خبردار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں ایک مسلح تنظیم ڈی ایچ ڈی جے نے حکومت کو فائر بندی کی پیش کش کی تھی۔