ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

جنوبی ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

بھارت: افراطِ زر کی شرح میں اضافے کا خدشہ

شیئر کیجیئے


بھارتی حکومت آنے والے مہینوں میں افراطِ زر کی اونچی شرح کے امکان کے پیشِ نظر عالمی معاشی بحران سے مقابلے کے لیے دی جانے والی رعایتوں میں کمی کرسکتی ہے۔

حال ہی میں بھارت کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں افراطِ زر میں اضافے کی شرح توقع سے زیادہ ہے۔ مرکزی بینک کی رپورٹ میں کہا ہے کہ اگلے سال مارچ میں افراطِ زر کی شرح چھ اعشاریہ پانچ فی صد تک پہنچ سکتی ہے جومقررہ ہدف تین فی صد سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افراطِ زر کی وجہ اس سال مون سون میں بارشوں کی کمی تھی جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہوئی اور ملک میں خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں۔دوسری چیزیں مثلاً فولاد، جس کی قیمت عالمی مالیاتی بحران کی وجہ سے گرگئی تھی، دوبارہ بڑھنی شروع ہوگئی ہے۔

معاشیات سے متعلق بھارتی ادارے آئی سی آر اے سے منسلک اقتصادی امور کے ماہر پی کے چوہدری کہتے ہیں کہ افراطِ زر کی اونچی شرح ایک ایسے ملک کے لیے تشویش کا باعث ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ غربت کی زندگی گذار رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضرورت کی چیزیں، مثلاً خوراک اور کپڑے وغیرہ عام آدمی کے لیے بہت مہنگے ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی پریشانی بڑھ رہی ہے کیوں کہ اس وقت عام شہری کی قوت خرید کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے جلد ہی کچھ رعایتوں کو واپس لے لے گا جو اس نے عالمی معاشی بحران سے نمنٹے کے لیے دی تھیں۔ دنیا کے اکثر دوسرے ملکوں کی طرح بھارت نے بھی بحران کے دنوں میں معاشی بحالی اور صارفین کی طلب میں اضافے کے لیے سود کی شرح کم کی تھی اور اربوں ڈالر کا سرمایہ فراہم کیا تھا۔

اگرچہ ابھی شرحِ سود میں اضافہ نہیں کیا گیا، تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگلے سال میں اس میں اضافہ کردیا جائے گا۔اس وقت آسٹریلیا وہ واحد ملک ہے جس نے افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے سود کی شرح بڑھائی ہے۔

بھارت میں صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں شرحِ سود میں متوقع اضافے پر تشویش ہے کیوں کہ اس سے معیشت کی بحالی متاثر ہوسکتی ہے۔جب کہ ماہر معاشیات چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں معاشی ترقی کی رفتار توقع سے بہتر ہے اور اس سال یہ رفتار چھ فی صد رہنے کی توقع ہے۔

عالمی معاشی بحران کا اثر دوسری ایشیائی معیشتوں کے مقابلے میں بھارت پر کم پڑا ہے کیوں کہ بھارتی صنعت کا زیادہ تر انحصار برآمدات کی بجائے ملکی طلب پر ہے۔