ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

جنوبی ایشیا RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

بی جے پی میں خانہ جنگی، کرناٹک کی حکومت بحران کا شکار

شیئر کیجیئے


بھارت کے صوبے کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) میں جاری خانہ جنگی نے صوبے کی حکومت کو نہ صرف بحران سے دوچار کر دیا ہے بلکہ اُس کے لیے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے باغیوں کو منانے کی کوشش کی،  لیکن اُسے ناکامی ہوئی۔

بنگلور میں وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مصالحتی فارمولے پر اتفاق ہو چکا ہے،  لیکن باغی گروپ کی قیادت کرنے والے ارکان اپنے موقف پر اُڑے ہوئے ہیں اور وزیرِ اعلیٰ کی برطرفی تک کوئی سمجھوتا نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باغی گروپ کے قائد  ریڈی برادران نے حیدرآباد میں اپنے حامی ارکانِ اسمبلی سے ملاقات کے بعد کہا کہ کسی بھی مصالحتی سمجھوتے کو قبل نہیں کیا جائے گا۔

باون باغی ارکانِ اسمبلی نے اپنا استعفیٰ اہل کاروں کے حوالے کر دیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر اِنھیں صوبائی گورنر کو پیش کر دیا جائے گا۔

اِسی دوران  وزیرِ اعلیٰ یدو رَپا نے ٹیلی ویژن چینلوں پر آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ عوام سے معافی مانگی۔  اُنھوں نے کہا کہ بغاوت کے سبب حکومتی  کارکردگی متاثر ہوئی ہے جِس کے لیے وہ عوام سے معذرت خواہ ہیں۔

بی جے پی کے سینئر قائد   ایل کے آڈوانی نے بھی اِس بحران کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن کہا جاتا ہے کہ اُنھیں ناکامی ہوئی۔