توانگ میں بدھ مذہب کی 300 سالہ قدیم خانقاہ سالہا سال سے بہت اہم زیارت گاہ مانی جاتی ہے
تبتی روحانی پیشوا دلائی لاما اتوار کی صبح بھارت کے شمال مشرتی صوبے اروناچل پردیش کے شہرتوانگ پہنچے۔
چین کے شدید اعتراض کی وجہ سے اُن کا یہ دورہ متنازع ہوگیا ہے۔ توانگ میں بودھ مذہب کی 300سال قدیم خانقاہ ہے جو سالہاسال کے بعد سب سے زیادہ اہم زیارت گاہ مانی جاتی ہے۔
دلائی لاما آسام کے دارالحکومت گوہاٹی سے بذریعہ ہیلی کاپٹر جب توانگ پہنچے تو اروناچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ نے اپنی کابینہ کے رفقا کے ہمراہ اُن کا خیرمقدم کیا۔
ہیلی پیڈ سے خانقاہ تک آٹھ کلومیٹر کے سفر کے دوران سڑک کی دونوں جانب روایتی کپڑوں میں ملبوس ہزاروں عقیدت مندوں نے اپنے روحانی پیشوا کا والہانہ انداز میں استقبال کیا۔
توانگ میں اپنے قیام کے دوران، دلائی لاما بودھ فرقے کے لوگوں کے لیے خطبات پیش کریں گے۔ توانگ برف سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان زمین سے دس ہزار فوٹ کی بلندی پر واقع ایک چھوٹا سا لیکن بے حد حسین قصبہ ہے۔ آج اِس کو دلائی لاما کے دورے کے باعث کافی سجایا گیا ہے۔
یہ جگہ تبت اور برما کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے اِس لیے اِس کے اِرد گِرد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
دلائی لاما چین کے خلاف ناکام تبتی بغاوت کے بعد 1959ء میں توانگ کے راستے ہی بھارت پہنچے تھے۔
اُن کے موجودہ دورے کی اہمیت اِس لیے بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اِس سال اُس واقعے کی پچاس ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے دلائی لاما کے دورے کی اجازت دینے پر بھارتی حکومت سے سخت احتجاج کیا تھا۔
چین پورے اروناچل پردیش ہی کو متنازع علاقہ مانتا ہے اور توانگ پر اپنا حق جتاتا ہے۔ تاہم، نئی دہلی نے چین کے تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ توانگ اور اروناچل پردیش دونوں بھارت کے اٹوٹ انگ ہیں۔ دلائی لاما نے بھی چین کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے دورے کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا واحد مقصد عالمی بھائی چارے کا فروغ ہے۔