بابری مسجد کے انہدام کے سانحے پر ہزاروں اشعار کہے گئے، درجنوں کہانیاں لکھی گئیں اور نصف درجن سے زائد ناول قلم بند کیے جا چکے ہیں
بابری مسجد کے در و دیوار نے بہت سے انقلابات دیکھے تھے۔ لیکن اس مسجد کو شر پسندوں نے چھ دسمبر 1992ءکو شہید کر دیا اور 18دسمبر سنہ 1992ءکو اس کی تحقیقات کے لیے جسٹس لبراہن کی سربراہی میں ایک کمیشن کی تشکیل کی گئی تھی اس کمیشن کو رپورٹ دینے کے لیے تین ماہ کی مدت دی گئی تھی۔
لیکن یہ بھارت کا سب سے طویل ترین تحقیقاتی کمیشن ثابت ہوا اور اس نے سترہ برسوں کا طویل وقفہ لیا۔ 48بار اس کی توسیع کی گئی اور اس پر کل آٹھ کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس نے 399سماعتیں کیں اور ایک سو گواہوں کے بیانات درج کیے۔ چار جلدوں پر مشتمل یہ رپورٹ 30جون کو وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو جسٹس لبراہن نے پیش کر دی اوراس کے بعد سے ہی بھارت کی سیاست میں ابال آگیا ہے، کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی سر بر آوردہ رہنما اس کے نشانے پر ہیں۔ اب ان پر کیا کارروائی ہو گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اس رپورٹ کے آنے سے سیاست میں گرما گرمی تو پیدا ہو گئی ہے۔
عبادت گاہ محض سنگ و خشت کا مجموعہ نہیں ہو تی بلکہ اس کے ساتھ لاکھوں اور کروڑوں افراد کے جذبات واحساسات وابستہ ہو تے ہیں۔ اسی لیے بابری مسجد شہید کی گئی تو کروڑوں مسلمانوں کے ذہن پر اس کا اثر ہوا۔ جذبات و احساست مجروح ہی نہیں ہوئے لہو لہان ہو گئے جن سے اب تک خون رس رہا ہے جو کھرنڈ آئی بھی تھی اسے اچانک ہی لبراہن کمیشن نے پھر سے نوچ دیا ہے۔
بابری مسجد کی تعمیر 1528ء میں ہوئی تھی۔ چونکہ بابر کی زندگی کا روزنامچہ تزکِ بابری کے نام سے موجود ہے اور اس میں کہیں بھی بابر کے ایودھیا یا گرد و نواح میں جانے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لیے یہ کہا جاتا ہے ان کے سپہ سالار میر باقی نے یہ مسجد بنوائی تھی۔
اس کے بعد 1542ءمیں مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر نے اس ملحق زمین پر ہندوؤں کو ایک چبوترا بنانے کی اجازت دے دی۔ اس کے کافی عرصے کے بعد 1855ءمیں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فساد برپا ہو گیا جس کے بعد مسجد اور چبوترے کے درمیان پختہ دیوار بنا دی گئی۔ یہ معاہدہ بھی ہوا کہ نماز کے وقت پوجا نہیں ہوگی اور پوجا کے وقت نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ پھر 1883میں فیض آباد کے ڈپٹی کمشنر نے چبوترے پر مندر بنانے کی اجازت دینے سے انکا ر کر دیا۔ جنوری سنہ 1885میں پہلی بار یہ معاملہ عدالت میں لایا گیا۔ حالانکہ یہ نہ تو مسجد کی مخالفت میں تھا اور نہ ہی اس میں مسلمانوں کے خلاف کچھ لکھا گیا تھا۔ مہنت رگھوبر داس نے سب جج کی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا تھا کہ بتوں کو سردی اورگرمی سے بچانے کے لیے چبوترے کو مندر میں تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے لیکن سب جج پنڈت ہری کشن نے 24دسمبر 1885کو ان کی عرضی خارج کر دی۔
اس مسجد کی تاریخ میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب 22اور 23دسمبر سنہ 1949کی اندھیری رات میں کچھ ہندوؤں نے مسجد کے اندر گھس کر منبر پر مورتیاں رکھ دیں۔اس کے اگلے دن سے ہی ہنگامہ شروع ہو گیا اور مسجد میں تالا لگا دیا گیا۔ مسلمانوں نے مسجد کو ناپاک کرنے کے خلاف ایودھیا کے تھانے میں ایک سانحہ درج کرایا تھا۔ اس کے نتیجے میں 29دسمبر سنہ 1949کو سٹی مجسٹریٹ نے پولس رپورٹ کی بنیاد پر پوری اراضی کو بحق سرکار ضبط کر لیا اور وہاں ایک ریسور مقرر کر دیا۔
16جنوری سنہ 1950کو گوپال سنگھ نے فیض آباد کے سول کورٹ میں مقدمہ داخل کر کے مطالبہ کیا کہ انہیں اور دوسرے ہندوؤں کو وہاں پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔ تین مارچ سنہ 1951کو سول جج فیض آباد نے پوجا کرنے کی اجازت دے دی، جب کہ مسلمانوں کو انتظامیہ نے وقتی طور پر دو سو گز کے اندر آنے سے منع کر دیا۔ جنوری سنہ 1950 کو عدالت نے ایک حکم نامہ کے تحت متنازع پارٹیوں پرمورتیاں نہ ہٹانے کی پابندی لگا دی۔ اس کے بعد سنہ 1961میں سنی سنٹر وقف بورڈ نے بابری مسجد اور اس سے ملحق پلاٹ کی زمین کی دعوےداری کا مقدمہ داخل کیا۔ یکم فروری سنہ 1986کو ایک ایسے شخص نے جس کا ایودھیا تنازعے سے قطعی کوئی تعلق نہیں تھا، فیض آباد ضلع کے جج کے ایم پانڈے کی عدالت میں درخواست دی کہ اسے مورتیوں کے درشن کرنے کی اجازت دی جائے۔ ضلع جج نے انصاف کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر تالا کھولنے کا فیصلہ دے دیا۔ اس معاملہ میں دوسرے فریق یعنی مسلمانوں کی شنوائی تک نہیں کی گئی۔ تین فروری سنہ 1986کو تالا کھولنے کے فیصلہ کے خلاف ایودھیا کے محمد ہاشم انصاری نے لکھنئو ہائی کورٹ میں درخواست دی لیکن جسٹس برجیش کما رنے کوئی ریلیف نہ دیتے ہوئے حالت کو جوں کا توں برقرار رکھا۔
مسجد کا تالا کھلنے کے بعد سے ہی وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، بھارتیہ جنتا پارٹی، درگا واہنی، شیو سینا کی تحریک شدید ہو گئی اوران لوگوں نے ”مندر وہیں بنائے گا“ نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ سنہ 1989میں لال کرشن آڈوانی نے سوم ناتھ سے ایودھیا تک رتھ یاترا شروع کرنے کا اعلان کیا اور انہوں نے 25ستمبر سنہ 1990کو اپنی یاترا شروع کر دی۔ جس کے باعث گجرات کے بڑودہ، بناس کاٹھا، اتر پردیش کے گونڈا، کرنل گنج اور راجستھان کے اودئے پور میں زبردست فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں سیکڑوں افراد مارے گئے۔ بہا رکے وزیر اعلی لالو پرساد نے سمستی پور میں ان کا رتھ روک کراڈوانی کو گرفتار کر لیا اور وہ یاترا وہیں پر رک گئی لیکن پورے ملک کاماحول مسموم ہو گیا۔ 19اکتوبر سنہ 1990کو صدر جمہوریہ ہند نے ایک اعلانیہ جاری کر کے ایودھیا کی اس زمین کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ 30 اکتوبر سنہ 1990کو کار سیوکوں نے بڑی تعداد میں ایودھیا میں جمع ہو کر بابری مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن اس وقت کی ریاستی حکومت جس کے سربراہ ملائم سنگھ یادو تھے انہوں نے کار سیوکوں کے تئیں سختی برتنے کا حکم دیا، فائرنگ ہوئی اور 16کار سیوک مارے گئے۔
ان سب واقعات نے فرقہ پرست جماعتوں کو مزید تقویت بخشی اور انہوں نے اپنی تحریک کو تیز سے تیز تر کر دیا۔ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ چھ دسمبر سنہ 1992کو لاکھوں کارسیوکوں نے جمع ہو کر 465سال پرانی بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ یہ کام دن بھر چلتا رہا اور سارا ملک اتر پردیش اور مرکزی انتظامیہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ اسی دن قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے کہاکہ بابری مسجد دوبارہ اسی مقام پر بنائی جائے گی۔ لیکن اگلے ہی دن فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے جس میں دو سوسے بھی زائد افراد مارے گئے۔
بابری مسجد کی شہادت کے بعد چار بار ملک میں پارلیمنٹ کے انتخابات ہو چکے ہیں اور ہر انتخاب میں یہی ایشو سر فہرست رہا ہے۔ اس درمیان لبراہن کمیشن بھی اپنا کام کرتا رہا ہے حالانکہ آٹھ برسوں تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں حکومت تھی اوراس کے سبب کمیشن کا کام سست رفتاری سے ہو تا رہا کیوں کہ بابری مسجد شہادت کے ملزمین لال کرشن آڈوانی نائب وزیر اعظم، مرلی منوہر جوشی وزیر فروغ انسانی وسائل اور اوما بھارتی وزیر ثقافت تھیں۔
ان کے علاوہ کلیان سنگھ اتر پردیش کی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر براجمان تھے۔ کلیان سنگھ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دے کر اس کمیشن کو ہی ختم کرد ینے کی اپیل کی تھی۔ لیکن گیارہ برسوں بعد عدالت عالیہ نے اسے خارج کر دیا۔ اس کے بعد ہی کلیان سنگھ لبراہن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سر بر آوردہ رہنماؤں نے کمیشن کے کام کو روکنے کی کوشش کی لیکن اب وہی لوگ رپورت تاخیر سے پیش کرنے کا سوال اٹھا رہے ہیں۔ لیکن جسٹس لبراہن نے صرف اتنا کہا ہے کہ انہیں کام کرنے میں کافی دشواریاں پیش آئیں کیوں کہ گواہان نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔
بابری مسجد شہید ہو چکی ہے اس کی شہادت کا اثر تخلیق کاروں پر بھی ہوا۔ اس سانحہ کے بعد سیکڑکوں ہی نہیں ہزاروں اشعار کہے گئے۔ درجنوں کہانیاں لکھی گئیں اور نصف درجن سے زائد ناول قلم بند کیے جا چکے ہیں۔ لیکن حالات اور واقعات بابری مسجد کی داستان اب بھی رقم کر رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت کے مسلمان اب بابری مسجدکی تعمیرِ نو کا صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال:
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں