ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

آدھی رات کا سورج

اشبیلیہ کا البیلا بادشاہ

Al-Mutamid, the poet king of Seville
فوٹو saudiaramcoworld.com

المعتمد اشبیلیہ میں اپنے قلعے سے باہر فکرِ سخن میں غرق ہے

شیئر کیجیئے

اسی بارے میں

لڑتے لڑتے وہ وقت آ گیا جب مجھے احساس ہو گیا کہ اس جنگ کو طول دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طبیب بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے مریض کی جاں کنی کے لمحات بلاوجہ دراز کرتا چلا جائے۔ میرے دو بیٹے کام آ چکے تھے اور بچے کھچے سپاہی راہِ فرار اختیار کر رہے تھے۔  دشمن کے سپاہی محل کی دیواریں پھلانگ پھلانگ کر احاطے میں کود رہے تھے۔ ہر طرف چیخ پکار مچی ہوئی تھی۔دائرہ ہر لمحے تنگ ہوتا چلا جا رہا تھا۔

مجھے احساس ہو گیا کہ بازی پلٹ چکی ہے۔ میں نے اپنی زرہ بکتر اتار دی اور تلوار سونت کر بربروں کے ایک جتھے میں گھس گیا۔ میدانِ جنگ میں کام آنا ہی جنگ جوؤں کی زندگی کی معراج ہوا کرتی ہے۔ لیکن میرے قریب پہنچتے ہی انھوں نے ہتھیار روک دیے اور کمندیں پھینک کر مجھے جکڑ لیا۔

جب میرے آنسو تھم گئے
اور دل پر خاموشی کے گہرے بادل چھا گئے
میں نے آوازیں سنیں:
’ہتھیار ڈال دو، اسی میں دانائی ہے!‘
میں نے جواب دیا:
’شرمندگی کے اس پیالے سے
زہر کا گھونٹ بہتر ہے۔‘
اگرچہ بربروں نے میرا تخت مجھ سے چھین لیا ہے
اور میرے سپاہیوں نے مجھے ترک کر دیا ہے
میری ہمت اور میرا وقار میرے ساتھ ہیں
جنگ کے لیے میں زرہ بکتر کے بغیر گیا
لیکن افسوس، میرا وقت ابھی نہیں آیا

جب میں نے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا
جو بارش کے لیے دعا مانگنے اکٹھا ہوا تھا
میں نے کہا، میرے آنسو ہی جل تھل کرنے کے کافی ہیں
سچ ہے، انھوں نے جواب دیا
لیکن تمھارے آنسو خون سے رنگے ہوئے ہیں


لیکن اس سے پہلے کہ میں آگے کا احوال بتاؤں، بہتر ہے کہ پہلے اپنا تعارف کروا دوں۔ میرا نام محمد ابن عباد ہے، لیکن تاریخ مجھے معتمد کے نام سے جانتی ہے۔ میں نے اشبیلیہ (Seville) پر 1059ء سے 1091ء تک اس شان سے حکومت کی تھی کہ میری سلطنت کی ٹکر کی اندلس بھر میں کوئی اور ریاست نہیں تھی۔

ذہن میں یادوں کے جھکڑ چل رہے ہیں۔ بیتے ہوئے دن ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے سے گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کہاں سے ابتدا کی جائے، لیکن ایک خوب صورت شام کا منظر ذہن پر ابھرا ہے، اس کا قصہ سنیئے۔

ایک دن میں اور میرا عزیز دوست ابنِ عمار شام کے وقت دریائے وادی الکبیر کے کنارے چہل قدمی کے لیے نکلے۔ ابھی سردیوں کا آغاز نہیں ہوا تھا، لیکن ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی گھلی ہوئی تھی۔ ابنِ عمار میری ہی عمر کا تھا اور نہایت عمدہ شاعرتھا۔ وہ میرا دوست، میرا ہم راز، میرا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے کے ساتھ ساتھ میرا وزیر بھی تھا۔

  ہم باتیں کرتے اور شعر پڑھتے ہوئے جا رہے تھے۔ قریب ہی کچھ عورتیں دریا کے کنارے کپڑے دھو رہی تھیں۔ خاموشی سے بہتے ہوئےوادی الکبیر کے مٹیالے پانی میں سورج جاتے جاتےاپنی سرخیاں منعکس کر رہا تھا۔ ہوا دریا کی سطح پر اٹکھیلیاں کر رہی تھی۔ میں نے ایک فی البدیہہ مصرع موزوں کر کے ابنِ عمار کو سنایا:

صناع الربو من الما ءِ ضرد 
(پانی کی سطح پر ہوا سے زنجیروں کی مانند لہریں بن اور مٹ رہی ہیں)

اور اسے کہا کہ وہ اس مصرعے پہ مصرع لگا کر شعر مکمل کرے۔ ابنِ عمار بے حد فطین اور حاضر جواب شاعر تھا اور ایسے معاملات میں اس کا ذہن بجلی کی طرح چلتا تھا۔ لیکن نہ معلوم کیا ہوا کہ اس موقعے پر اسے ذرا دیر لگ گئی۔ ابھی وہ دوسرے مصرعے کی فکر میں غرق تھا کہ کپڑے دھونے والی عورتوں میں سے ایک نے آواز لگائی:

ایو در ان قتدلٍ لا جمد 
(اگر جم جائیں تو جنگ کے لیے کیا خوب زرہ بکتر بن جائے)

Al-Mutamid and Etimad
saudiaramcoworld.com
دریا کے کنارے کپڑے دھوتے ہوئے اعتماد نے اپنی ذہانت سے معتمد کو مسحور کر لیا



میں ٹھٹک کر رک گیا۔ مڑ کر شعر پڑھنے والی کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ چھریرا بدن، آنکھوں میں ذہانت آمیز شوخی، اور چہرہ شفق کے رنگوں سے گلنار۔ اس کا نام اعتماد تھااور وہ رمیک نامی شخص کی کنیز تھی، جس کی وجہ سے اسے لوگ رمیکیہ کہتے تھے۔ قصہ مختصر، یہی اعتماد بعد میں ہماری ملکہ بنیں اور انھیں کے نام کی مناسبت سے میں نے اپنا نام ’معتمد‘ رکھ لیا، یعنی وہ جس پر اعتماد کیا جا سکے۔

لیکن صاحب، یہ اعتماد صاحبہ بڑی متلون مزاج تھیں، گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ طبیعت کی ایسی ضدی کہ کسی بات پر اڑ جاتیں تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے، یہ ٹس سے مس نہ ہوتی تھیں۔ ایک دفعہ کا واقعہ سنیئے۔ سردیوں کے دن تھے۔ ویسے تو قرطبہ برفانی شہر نہیں ہے، لیکن اس سال اتفاق سے وہاں برف گرنا شروع ہو گئی۔ ہم قرطبہ کی مسجد کے قریب واقع اپنے محل میں اوپری منزل پر بیٹھے ہوئے تھے، منقش جھروکے سے باہر کا منظر دل موہ لینے والا تھا۔ برف کے گالے جھومتے، لہراتے ہوئے زمیں پرگر رہے تھے اور دور پہاڑیاں برف سے براق ہو گئی تھیں۔ یہ خوش نما منظر دیکھتے دیکھتے اعتماد کی دل کش مسکراہٹ کےخطوط اداسی کے زاویوں میں ڈھل گئے اور ذرا ہی دیر میں اس کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو رواں ہو گئے۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ پوچھا، ارے بھئی کیا ہوا؟ لیکن وہ ہیں کہ جواب ہی نہیں دے رہیں۔

بڑی مشکل سے ہچکیوں کے دوران بتایا کہ آپ کتنے ظالم ہیں کہ ہر سال مجھے اتنا خوب صورت منظر دیکھنے سے محروم رکھتے ہیں۔ میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کہ کہ بھئی میں لاکھ مطلق العنان بادشاہ سہی، لیکن میرا موسموں پر کوئی اختیار نہیں،میں برف نہیں برسا سکتا۔ لیکن ملکہ اعتماد ضد پر اڑ جائیں تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔

لیکن کسی نہ کسی طرح ملکہ کو مطمئن کرنا بھی ضروری تھا۔ آخر بڑی سوچ بچار اور ماہرین سے مشورے کے بعد میں نے قرطبہ کی آس پاس کی تمام پہاڑیوں کو بادام کے درختوں سے ڈھک دیا۔ اب جب بھی اوائلِ بہار میں ان درختوں پر شگوفے پھوٹتے تھے، دور سے ایسا لگتا تھا جیسے یہ پہاڑیاں برف سے لدی ہوئی ہیں، اور اعتماد صاحبہ مسرور ہو جایا کرتی تھیں۔

خیر ان باتوں میں میں یہ بتانا بھول گیا کہ ویسے تو ہماری سلطنت اشبیلیہ میں قائم تھی، لیکن میں تخت سنبھالنے کے دوسرے ہی برس قرطبہ پر اپنا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ یہ اندلس بھر میں نہایت پرآشوب زمانہ تھا۔1031ء میں قرطبہ کی مرکزی خلافت کے پارہ پارہ ہونے کے بعد ملک درجنوں چھوٹی بڑی ریاستوں میں بٹ گیا تھا، جنھیں طائفے کہا جاتا تھا، اور اس زمانے کو طوائف الملوکی کا دور۔ یہ طائفے چھوٹی سے چھوٹی بات پر ایک دوسرے کے خلاف تلوار سونت کر کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔

 اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر شمال میں واقع عیسائی ریاستوں کی ہمت بندھی۔ انھوں نے حملے کرکے چھوٹی موٹی ریاستوں کو ہڑپ کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ قصطیلیہ کے امیر الفانسو ششم نے اتنا زور پکڑا کہ بہت سی مسلم ریاستیں اسے خراج دینے پر مجبور ہو گئیں۔ 1085ء میں الفانسو نے طلیطلہ (Toledo) پر قبضہ کر لیا۔ طلیطلہ گذشتہ تین سو برس سے مسلم علم و فن کا گڑھ تھا، اس کے سقوط سے تمام اندلس میں سنسنی پھیل گئی، اور تمام ریاستوں کو اندازہ ہو گیا کہ ان کے دن گنے جا چکے ہیں اور وہ جلد یا بدیر الفانسو کی سلطنت کا حصہ بن جائیں گے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے۔ یا تو الفانسو کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور یا پھر شمالی افریقہ کی المرابطون (Almovarid) سلطنت کو مدد کے لیے پکاریں۔

 اس موقعے پر میں نے ایک شعر کہا تھا جس پر مجھے آج بھی افسوس ہے۔ ’ میں قصطیلہ میں عیسائیوں کے سور چرانے پر فیض میں بربروں کے اونٹ چرانے کو ترجیح دوں گا۔‘

خیر، میں نے غرناطہ کے امیر سے بھی مشورہ کیا، دوسرے زعما سے بھی صلاح لی، جس کے بعد میں نے خود مراقش جا کر بربر سلطان یوسف بن تاشفین سے مدد کی درخواست کی، جسے اس نے بخوشی قبول کر لیا۔ اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یوسف بن تاشفین کی مدد دو دھاری تلوار ہے۔

 یوسف بن تاشفین کی فوج 1086ء میں آبنائے جبل الطارق پار کر کے اندلس میں داخل ہو گئی۔ میں نے ساحل پر جا کر اس کا استقبال کیا اوریوسف اور اس کے فوجی سرداروں پر تحائف کی بارش کر دی۔ میں نے یوسف کو دعوت دی کہ وہ کچھ دن میرے دارالحکومت اشبیلیہ میں آرام کرے اس کے بعد آگے کی دیکھی جائے گی۔ لیکن یوسف نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میں یہاں آرام کرنے نہیں بلکہ دشمن سے لڑنے آیا ہوں۔

 یوسف بن تاشفین اور اس کا المرابطون خاندان صحرائی بربر تھے اور اس کی عمر گھوڑے کی پیٹھ پر گزری تھی۔ جب اس نے اندلسی طائفوں کے امیروں کے ٹھاٹ باٹ دیکھے تو اس کی آنکھیں چکاچوند ہو گئیں۔ صاف محسوس ہوتا تھا کہ اسے یہ کروفر اور عیش اور عشرت بہت ناگوار گزرتے ہیں، اسی لیے وہ ہماری ہر بات پر ناک بھوں چڑھا کر رہ جاتا تھا۔

الذلقہ کے مقام پر یوسف کے بربروں اور الفانسو کی افواج مدِ مقابل ہوئیں۔ میں بھی اپنے دلاور دستوں کے ساتھ یوسف کے شانہ بہ شانہ موجود تھا۔ الفانسو نے تمام ہسپانیہ کے عیسائی راجواڑوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور اس کی فوجوں کے پرے افق کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے تھے۔ جمعرات کا دن تھا۔ الفانسو کی طرف سے ایلچی پیغام لے کر آیا کہ کل جمعہ ہے، جو تمہارا مقدس دن ہے۔ پرسوں ہفتہ ہے جو یہودیوں کا مقدس دن ہے اور میری فوج کے اکثر منشی اور خزانچی یہودی ہیں۔ اس کے بعد اتوار ہے جو ہمارا مقدس دن ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم پیر کے دن کا انتظار کریں اور اسی دن معرکہ بپا ہو۔ یوسف نے فوراً ہی اس بات سے اتفاق کر لیا۔

جمعے کے دن یوسف اور اس کی فوج اطمینان سے نماز کی تیاری کرنے لگی۔ نہ جانے کیوں میرے دل میں کھٹک سی تھی، میں نے یوسف سے ذکر بھی کیا لیکن اس نے میری بات کو جھٹک دیا۔ ابھی نمازِ باجماعت کی پہلی رکعت ہی ادا ہوئی تھی کہ الفانسو کے گھڑ سواروں نے ہلہ بول دیا۔ 

الفانسو کا خیال تھا کہ وہ یوسف کے لشکر کو بے خبری میں آ لے گا۔ لیکن میری آنکھوں نے اس وقت ایک عجیب منظر دیکھا۔ یوسف کے تربیت یافتہ سپاہیوں نے جنوں کی طرح لپک کر اپنے ہتھیار اٹھائے اور چھلاوں کی طرح کود لگا کر گھوڑوں پر سوار ہو گئے۔ چند لمحوں کے اندر اندر وہ پوری طرح سے تیار تھے۔ گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ ہر طرف تلواریں، بھالے اور برچھے بجلیوں کی طرح چمکنے لگے اور تیر سروں پر طوفانی ہواؤں کی طرح سائیں سائیں کر تے گزرنے لگے۔

۔۔۔ بقیہ اگلی قسط میں