مسجدِ قرطبہ سے کسی قدرنشیب میں بہتے ہوئے دریائے کبیر کے کنارے کنارے چلتے ہوئے ایک جدید طرز کا پل نظر آتا ہے۔ یہ پل دور سے دیکھنے میں پرندے کے پروں کی طرح نظر آتا ہے۔ معلوم نہیں اسے کس میٹریل سے تعمیر کیا گیا ہے لیکن بظاہر یہ بہت ہلکا پھلکا اورلچکیلا معلوم ہوتا ہے۔
یہ ابن فرناس پل ہے۔ لیکن ابنِ فرناس کون تھا اور سپین کی حکومت نے کسی گم نام عرب کے نام پرایک بے حد جدید پل کا نام کیوں رکھا، اور پل کی شکل پرکی مانند کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں ایک جگ پیچھے جانا پڑے گا۔ آج بچہ بچہ جانتا ہے کہ اطالوی مصور لیوناردو داونچی وہ پہلا شخص ہے جس نے گلائیڈر بنایا تھا۔ لیکن تاریخ کے اوراق سے گرد جھاڑنے سے پتا چلتا ہے کہ قرطبہ کے باسی ابنِ فرناس نے داونچی سے کوئی پانچ سو برس قبل ہی گلائیڈر کا تجربہ کر دکھایا تھا۔
عباس ابنِ فرناس 810ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس زمانے کے عام چلن کے مطابق وہ کئی علوم کا ماہر تھا، طبیعات، طب، فلکیات، ریاضی۔ عین ممکن ہے کہ 822ء میں زریاب کے قرطبہ میں براجمان ہونے کے بعد ابنِ فرناس نے اس کا شہرہ سنا ہو، کیوں کہ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ موسیقی پڑھنے کےلیے قرطبہ آیا تھا۔ قرینِ قیاس ہے کہ نوجوان ابنِ فرناس نے زریاب سے موسیقی کا درس لیا ہو۔ لیکن ابنِ فرناس کی اصل دل چسپی سائنس میں تھی۔ وہ پرندوں کے پروں کا بغور مشاہدہ کیا کرتا تھا اوراس کا یہ قول مشہور ہے کہ انسانی ذہن نے آج تک ایسی کوئی چیز ایجاد نہیں کی جو پیچیدگی میں پرکا مقابلہ کر سکے۔
875ء کے قریب ابنِ فرناس نے ایک ایسا گلائیڈر تیارکیا جس میں لکڑی کے ڈھانچے میں پرندوں کے پر نصب کیے گئے تھے۔ وہ یہ گلائیڈر لے کر ایک قریبی پہاڑی پر واقع برج کے اوپر چڑھ گیا۔ عینی شاہدین نے آگے کا احوال کچھ یوں بیان کیا ہے:
ابنِ فرناس نے قرطبہ کے باسیوں کو اپنی پروازکا نظارہ کرنے کے لیے دعوت دی اورجب اچھا خاصا ہجوم اکٹھا ہو گیا تو اس نے انھیں مخاطب ہو کر کہا:
’اب میں آپ لوگوں سے رخصت چاہتا ہوں۔ میں ان پروں کو پرندوں کی طرح اوپر نیچے حرکت دے کر اوپر اٹھوں گا۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق عمل میں آیا تو میں کچھ دیر تک پرواز کرنے کے بعد آپ کے درمیان لوٹ آؤں گا۔ ‘
ہجوم میں کئی لوگوں کا خیال تھا کہ ابنِ فرناس کا دماغ چل گیا ہے۔ کچھ لوگ تو اس کی سلامتی کے بارے میں بھی تشویش کا شکار تھے۔
تاریخ دان ابن مقری لکھتا ہے کہ ابنِ فرناس چھلانگ لگانے کے بعد خاصے فاصلے تک پرندوں کی طرح پرواز کرتا رہا۔ لیکن جب اس نے واپس اسی جگہ اترنے کی کوشش کی جہاں سے پرواز شروع کی تھی تو وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے گر گیا۔ بعد میں اس نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے دم کا خیال نہیں رکھا تھا، اور پرندے دم کی مدد سےمڑتے ہیں۔
اس حادثےمیں ابنِ فرناس کی کمر زخمی ہو گئی جس کے باعث وہ مزید تجربات کرنے کے قابل نہیں رہا۔ تاہم اس کے تجربے کی داستان کو یورپ کے دوسرے علاقوں تک پھیلنے میں دیر نہیں لگی۔ ایک سو برس بعد انگلستان میں ایک شخص نے جسم سے پر باندھ کر اڑنے کی کوشش کی اورایک فرلانگ تک پرواز کرنے کے بعد گر کر ٹانگ تڑوا بیٹھا۔ حتیٰ کہ فرانسس بیکن تک نے اس نمونے کا گلائیڈر بنایا تھا۔ تاہم سب سےزیادہ شہرت داونچی کے گلائیڈر کو حاصل ہوئی۔
شہرِ گم گشتہ
ابنِ فرناس کے پل سے پہلے ہی ایک سڑک دائیں ہاتھ کو گھوم جاتی ہے۔ بورڈ پر لکھا ہوا ہے، مدینہ الزہرا۔ چند کلومیٹر کے بعد ایک پہاڑی کے اوپر چند کھنڈرات نظر آتے ہیں، جنھیں دیکھ کر موہن جودڑو کے ٹیلے کی یاد آتی ہے۔ چند ٹوٹی ہوئی محرابیں، جن پر مسجدِ قرطبہ کی طرز کی سفید و سرخ اینٹیں سجائی ہوئی ہیں۔ بے کراں آسمان کے تلے کچھ بلند و پست ٹوٹی پھوٹی دیواریں، اوراکا دکا کھجور کے درخت۔ دور کچھ کھیت، اورایک طرف موجوں مارتا ہوا قرطبہ شہر۔
ان کھنڈرات کو دیکھ کریہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ وہ شہر ہے ایک زمانے میں جس کی آب و تاب دیکھ کر یورپ کے سفیروں اور مندوبین کی آنکھیں چکاچوند اوردماغ ماؤف ہو جاتے تھے۔
مدینہ الزہرا عبدالرحمٰن ثالث نے تعمیر کروایا تھا۔ لیکن پھر 1010ء میں شمالی افریقہ سے آنے والے بربروں نے اسے تاخت و تاراج کر دیا۔ یہ بربر کٹر مذہبی تھے اورانھیں مدینہ الزہرا کی زبردست شان و شوکت اسلامی روایات کے منافی، اسراف اور لہوولعب نظر آتی تھی۔ چناں چہ انھوں نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ رفتہ رفتہ یہاں مٹی قدم جماتی گئی اور دو صدیوں بعد اس کا نام و نشان بھی زمین تلے دب گیا۔
شہرِ دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں
آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
مدینہ الزہرا کی شان و شوکت کے قصے دیومالائی کہانیاں لگتے ہیں۔ ایک صدی قبل تواسے محض عرب مورخوں کے زرخیزتخیل کی پیداوار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ لیکن پھر نو صدیوں تک خاک تلے دبے رہنے کے بعد 1910ء میں مدینہ الزہرا کی کھدائی شروع ہوئی۔ اب تک صرف دس فی صد شہرکی کھدائی ہو سکی ہے اورماہرین کا خیال ہے کہ مکمل کھدائی میں مزید سو برس لگیں گے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے سامنے یہ مخمصہ تھا کہ کھدائی کے دوران برآمد ہونے والی اشیا کو کیسے محفوظ رکھا جائے، کیوں کہ کسی عجائب گھر میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ وہ شہر بھر سے نکلے ہوئے آثار کو سمو سکتا۔ آخر فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ الزہرا کو بازتعمیر کیا جائے گا اور جو چیز جہاں سے نکلی ہے، اسے تحقیق کے بعد اسی صورت میں نصب کر دیا جائے گا جس صورت میں وہ شہر کے ابتدائی نقشے میں موجود تھی۔
ظاہر ہے کہ یہ انتہائی محنت طلب کام ہے اور اس میں بسا اوقات ماہرین کو اندازوں اور تخمینوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اب تک کی پیش رفت انتہائی متاثر کن ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے عشروں میں مدینہ الزہرا کے اصل شان و شکوہ کو کسی حد تک بحال کر دیا جائے گا۔
ابھی اس جگہ سے 90 فی صد کھدائی ہونا باقی ہے۔ لیکن دنیا کے کسی بھی شہر کی طرح قرطبہ بھی ہرسمت میں پھوڑے کی پھول رہا ہے۔ تعمیراتی ادارے مدینہ الزہرا کی زمین کے اوپر رہائشی بستیاں تعمیر کرتے چلے جا رہے ہیں۔ سپین کی حکومت نے 1995ء میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت اس علاقے میں ہر قسم کی تعمیرات ممنوع قرار پائی تھیں، لیکن نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں ڈھائی سو سے زیادہ غیر قانونی مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں، جن کی وجہ سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ شاید مکمل شہر کبھی بھی بازیاب نہ کروایا جا سکے۔
لگتا ہے لینڈ مافیا سپین میں بھی موجود ہے۔
اس شہرِ خواب و خیال کا تذکرہ اگلی قسط میں۔