میڈرڈ جانے والا جہاز چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ ہوا یوں کہ پیرس کے چارلز ڈیگال ایرپورٹ پرجب میں گیٹ نمبر 25 کے آگے بیٹھا میڈرڈ کی فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا تو کسی وجہ سے انتظامیہ نے گیٹ نمبر بدل دیا۔ ظاہر ہے کہ فرانسیسی زبان میں اس امر کی اطلاع کئی بار دی گئی ہو گی۔
آخرجب پرواز میں چند منٹ رہ گئے تو مجھے لاؤڈ سپیکر پر طویل فرانسیسی اعلان کے درمیان اپنا نام سنائی دیا۔ میں بھاگم بھاگ کاؤنٹر پر پہنچا تومعلوم ہوا کہ میری پرواز کا گیٹ اب 29 ہو گیا ہے اور جہاز فقط میری ہی راہ تک رہا ہے۔
جب جہاز میڈرڈ کے برجاس ہوائی اڈے پر اترا تو پوراشہر بادلوں میں لپٹا ہوا تھا اور ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ چوں کہ فرانس اور سپین دونوں یورپی یونین کا حصہ ہونے کی وجہ سے گویا ایک ہی ملک ہیں، اس لیے کسٹم اور امیگریشن کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑا۔
برجاس امریکی ہوائی اڈوں کی نسبت بہت سادہ اور کم پرتکلف لگا۔ ایک ہی لمبی قطار میں کاؤنٹر لگے ہوئے ہیں۔ زیرِ زمین ریل کا اڈا ایرپورٹ کے دوسرے سرے پر تھا، جہاں تک پہنچتے پہنچتے بیس منٹ لگ گئے۔ لیکن وہاں یہ مسئلہ آڑے آ گیا کہ ریل کا ٹکٹ کیسے خریدا جائے، ایک تو کرائے کا اندازہ نہیں، اور دوسرے ٹکٹ مشین پر ہدایات صرف ہسپانوی زبان میں درج ہیں۔ خیر ایک نوجوان سے بات کی تو اس نے کہا کہ دو یورو لگیں گے اور مجھ سے رقم لے کر مجھےگلابی رنگ کا چھوٹا سا ٹکٹ مشین سے نکال کرتھما دیا اور ساتھ ہی میڈرڈ کے ریلوے نظام کا چھوٹا نقشہ بھی دے دیا۔
آپ جب بھی زیرِ زمین ریل سے سفر کرتے ہیں تو یہ سوال درپیش آتا ہے کہ جس پلیٹ فارم پر آپ کھڑے ہیں، وہاں آپ کی منزل کی طرف جانے والی ٹرین آئے گی، یا وہاں سے آنے والی؟ اس مشکل کا آسان حل یہ ہے کہ آپ نقشے میں معلوم کریں کہ آپ جس ریل پر سفر کرنا چاہتے ہیں اس کا آخری سٹیشن کون سا ہے۔ یہی آخری سٹیشن ریل کی پیشانی پر لکھا ہوتا ہے۔
لیکن میرا مسئلہ یہ تھا کہ جہاں میں نے جانا تھا وہاں ایک ریل نہیں جاتی تھی، بلکہ تین ریلیں تبدیل کرنا پڑتی تھیں۔ ایک مہرباں صورت ہسپانوی بوڑھے نے بامحاورہ سپینش میں تفصیل سے سمجھایا کہ مجھے کن راستوں سے ہو کر جانا ہے۔ لیکن میں جب بھی اجازت مانگنے کی کوشش کرتا وہ پھر راستا روک کر اپنا آموختہ دہرانے لگتا۔ بڑی مشکل سے اس پیرِ تسمہ پا کو ’گراسیاس‘ کہہ کر جان چھڑائی اور جیبی نقشے کو خضرِ راہ بنا کر ایک ٹرین میں سوار ہو گیا۔
نئی ٹیکنالوجی کے فوائد۔ میں نے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ہی انٹرنیٹ کے ذریعے ہوٹل انفانتا مرسیدیس میں بکنگ کروا لی تھی اوریہ بھی معلوم کر رکھا تھا کہ اس کے قریب ترین زیرِ زمین ریلوے سٹیشن تیتوان پڑتا ہے۔ وہاں پہنچ کر باہر نکلا تو بارش میں شدت آ چکی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ہوٹل یہاں سے کتنی دور ہے، اس لیے ٹیکسی لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ٹیکسی والے نے کوئی پندرہ منٹ بعد ہوٹل پہنچا دیا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں معلوم ہوا کہ ہوٹل سٹیشن سے صرف پانچ منٹ کے پیدل فاصلے پر تھا۔ اب یہ سوال سائنس سے تعلق رکھتا ہے کہ آیا ٹیکسی ڈرائیور نے عمداً لمبا راستا اختیار کیا تھا یا پھر اسے اس شارٹ کٹ کا پتا ہی نہیں تھا۔
الفانتا مرسیدس پنج ستارہ ہوٹل تو نہیں تھا لیکن پھر بھی پیرس والے ہوٹل سے کہیں بہتر تھا اور کرایہ بھی پیرس کی بہ نسبت تقریباً آدھا تھا۔ پیرس کے ہوٹل کی لفٹ اس قدر تنگ تھی کہ جب میں اس کے اندر داخل ہوا تو یہ پریشانی لاحق ہو گئی تھی کہ میرا بیگ اور سوٹ کیس کیسے اس میں سوار کیے جائیں اور یہ چیزیں ٹھونس ٹھنسا کر رکھ بھی دی جائیں تو پھر لفٹ کا درواز ہ کیوں کر بند کیا جائے۔
کمرے میں سامان رکھ کے اور جلدی جلدی کپڑے بدل کر میں باہر آیا اور کاؤنٹر پر کھڑے نوجوان سے راستا پوچھ کر ایک بار پھر تیتوان سٹیشن پہنچ گیا۔ نقشے میں دیکھ کرمیں نے پورتو دل سول نامی سٹیشن کا انتخاب کیا۔ اس کا مطلب ہسپانوی زبان میں ہے ’سورج دروازہ۔‘
ٹرین میں میرے فوراً بعد تین فن کار داخل ہو گئے اور آؤ دیکھا نہ تاؤ، اکارڈین، گٹار اور جھانجھن بجا بجا کر ایک لوک ہسپانوی گانا شروع کر دیا۔ میرے آس پاس بیٹھے مسافر بھی اس فی البدیہہ لائیو پرفارمنس سے بے گانہ نہ رہ سکے اور تالیاں بجا بجا کر تھاپ دینے لگے۔ لیکن یہ محفلِ موسیقی تھوڑی دیر ہی جاری رہ سکی۔ جوں ہی ٹرین رکی، تینوں فن کاراپنا اسباب سمیٹ کر اور شائقین سے داد اور نقدی وصول کر کے سامنے سے آنے والی ٹرین میں سوار ہو گئے۔
سول میڈرڈ کا دل ہے۔ آپ اسے پاکستانی شہروں کا صدر سمجھیئے۔ یہاں کی تمام عمارات صدیوں پرانی ہیں اور وسیع چوک میں پتھر اور اینٹیں نصب ہیں۔ جگہ جگہ لوگ ٹولیاں میں کھڑے تیز آواز میں محوِ گفتگو ہیں۔ ویسے بھی ہسپانوی بولنے میں اچھی خاصی تیز رفتار اور بے تکلف سی زبان ہے۔ اس میں وہ تکلف اور رکھ رکھاؤ سنائی نہیں دیتا جو فرانسیسی کا خاصہ ہے۔
سپین کو کچھ عرصہ پہلے تک یورپ کا مردِ غریب کہا جاتا تھا۔ لیکن اب یورپی معیشت میں شامل ہونے کے بعد یہاں کے رنگ ڈھنگ بدل گئے ہیں۔ سورج دروازے کی سولھویں اور سترھویں صدی کی ہلکی سبز اور مٹیالی گلابی عمارتوں اورخمیدہ محرابوں پر اور ازمنہٴ وسطیٰ کے چرچوں کے سائے تلے یورو اکانومی کے نیون سائن چمچما تے ہیں اور تنگ و تیرہ سنگی گلیوں میں نئی تراش کے سوٹوں میں ملبوس نوجوان ہاتھوں میں بلیک بیری لیے محوِ گفتگو نظر آتے ہیں۔
لیکن انہی گلیوں میں مکانوں کے آگے بنے تھڑوں پر گہرے رنگوں والے فراکوں میں ملبوس عمر رسیدہ خواتین بے نیازی سے بیٹھی پائی جاتی ہے۔ان کے چہرے پر ایسی معصومیت پائی جاتی ہے جس کے لیے انسان کو محنت نہیں کرنا پڑتی بلکہ جو لمبی عمر کے بعد خود بخود چہرے پر نمودار ہو جاتی ہے۔
میڈرڈ شہر کا مرکز ضرور قدیم ہے، لیکن 50 لاکھ کی آبادی والے میڈرڈ شہر کے مضافات میں جنونی رفتار سے تعمیرات ہو رہی ہیں۔ جہاں تک نظر جاتی ہے، کرینیں زردکیکڑوں کی طرح عمارتوں کے ڈھانچوں پر جھکی نظر آتی ہیں۔ میڈرڈ کے دو چہرے ہیں اور دونوں کے درمیان اس قدر تفاوت ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دو مختلف شہر ایک دوسرے کے اندر واقع ہیں۔ اس لحاظ سے میڈرڈ دو کشتیوں کا سوار نظر آتا ہے۔
پہلی دنیا کے کسی بھی شہر کو دیکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ ’ہاپ آن ہاپ آف‘ بس کا ٹکٹ خرید لیں۔ اس قسم کی بسیں شہر کے تمام اہم مقامات کا طواف کرتی ہوئی دائرے میں سفر کرتی ہیں۔ راستے میں آپ جہاں چاہیں، اتر سکتے ہیں اور دس پندرہ منٹ بعد آنے والی اسی کمپنی کی دوسری بس میں سوار ہو سکتے ہیں۔ بس میں کئی زبانوں میں معلوماتی کمنٹری نشر ہوتی ہے، جس کی ٹائمنگ حیران کن حد تک برجستہ ہوتی ہے۔ مثلاً ’ اس وقت آپ کو دائیں طرف جو سنگین دیوار نظر آ رہی ہے یہ شاہی محل کا مغربی گوشہ جسے فلپ ثانی نے تعمیر کروایا تھا۔‘ ’سامنے جو باغ نظر آ رہا ہے اگر آپ اچک کر اس کے اندر دیکھیں تو مشہور افسانوی کردار ڈان کیخوتے اور اس کے ملازم سانچو پانزو کے مجسمے نظر آئیں گے،‘ وغیرہ۔
میں بھی ایسی ہی ایک بس میں سوار ہو گیا۔ اگرچہ بس ڈبل ڈیکر تھی اور اس کا اوپر والا حصہ کھلا تھا، لیکن پھوار کی وجہ سے اندر بیٹھنے ہی پر اکتفا کرنا پڑی۔ کچھ ہی دور جانے کے بعد مجھے پراڈو عجائب گھر کا نشان نظر آ گیا اور میں فوراً بس سے اتر گیا۔ یہ عجائب گھر یورپی مصوری کے عمدہ ترین شاہ کاروں کے لیے دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ میوزیم کے اندر ایک تاریک گوشے میں سپین کے عظیم مصور فرانسسکو گویا کی تصاویر کی خصوصی نمائش جاری تھی۔ گویا کے علاوہ یہاں ویلاسکوئس، ٹشن، رافیل، کاراواجیو اور دوسرے اساتذہ کی تصاویر موجود ہیں۔
اسی میوزیم میں ویلاسکوئس کی مشہورِ زمانہ تصویر ’دی میڈز آف آنر‘موجود ہے۔ 1985ء میں لندن کے ایک رسالے میں شائع ہونے والے سروے کے مطابق اس تصویر کو دنیا کی عظیم ترین پینٹنگ قرار دیا گیا تھا۔ بڑے سائز کی اس روغنی پینٹنگ میں شاہی خاندان کے کئی افراد بھی موجود ہیں لیکن سب سے نمایاں خود مصور ہے، جیسے اسے اپنی عظمت کا بھرپور احساس ہو۔
کئی دن بعد تولیدو میں البرتو نامی گائیڈ نے اسی تصویر کے بارے میں بتایا کہ یہ تکنیکی لحاظ سے دنیا کی تین عظیم ترین تصاویر میں سے ایک ہے۔ لیکن خیر، البرتو کا ذکرِ خیر بعد میں آئے گا۔
میڈرڈ پرانا شہر ہے۔ نویں صدی عیسوی میں اندلس کے امیر محمد اول نے دریائے منزاناریس کے کنارے پر محل تعمیر کروایا۔ یہاں آباد ہونے والے مسلمانوں نے اس جگہ کو ’المجریط‘ کا نام دیا، جس کا مطلب ہے’پانی کا منبع۔‘ بعد میں مجریط بگڑ کر میڈرڈ بن گیا۔ میرے پاس ایک نقشہ تھا جس میں ’دیوارِ عرب‘ نامی ایک جگہ کا ذکر تھا جو میڈرڈ میں اس دور کی مسلمانوں کی واحد یادگار ہے۔ بڑی مشکل سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر میں اس جگہ تک پہنچا تو بڑی مایوسی ہوئی کہ نویں صدی کے وسط میں تعمیر کردہ صرف ایک اکھڑی دیوار اور چند شکستہ محرابیں ہی باقی ہیں، جو زبانِ حال سے اپنی بدحالی کا رونا رو رہی ہیں۔ ایک دیوار پر ہسپانوی زبان میں ’پارک محمد اول‘ ضرور لکھا ہے، لیکن اس کے علاوہ اس تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ ان کھنڈروں کے بالکل اوپر اونچائی پر ایک زبردست اور پرہیبت چرچ تعمیر کیا گیا ہے، جس کے دبدبے کے سامنے سارا علاقہ سہما سہما سا لگتا ہے۔
کچھ دور دو انڈین لڑکے کھڑے اشتہار بانٹے ہوئے ملے، معلوم ہوا کہ یہ ’تاج محل ریستوران‘ کی تشہیری مہم چلا رہے ہیں۔ اندھے کو کیا چاہیئے، ان سے پتا لے کر میں سیدھا ریستوران پہنچ گیا۔ ویسے بھی یورپ یا امریکہ کے کسی چھوٹے سے چھوٹے قصبے میں اور کچھ ہو نہ ہو، ایک عدد انڈین ریستوران ضرور پایا جاتا ہے۔ جس سے دو باتوں کا پتا چلتاہے، ایک تو یہ کہ بھارتی دنیا کے ہر خطے میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں، اور دوسرے یہ کہ مغرب میں بھارتی کھانے مقبول ہو رہے ہیں۔
اس چھوٹے سے لیکن قرینے سے سجے ’تاج محل مغل ریستوران‘ کی دالِ ماش اور گرما گرم چپاتیوں کا ذائقہ اب بھی یاد ہے۔
اگلی صبح قرطبہ کا سفر درپیش تھا۔ قرطبہ ۔۔۔ جو کبھی کائنات کا مرکز تھا۔ قرطبہ، کتابوں کا شہر، علم و فنون کا مرکز۔ قرطبہ، دنیا کے ماتھے کا جھومر۔