معتمد کی شان دار زندگی سے جلاوطنی میں موت تک کا سفر مسلم ہسپانیہ کی تاریخ کا اندوہناک استعارہ ہے
مکمل متن
اشبیلیہ کے شاعر بادشاہ معتمد ابن عباد کی کہانی جس کی ایک نظم کا ترجمہ علامہ اقبال نے ’قید خانے میں معتمد کی فریاد‘ کے نام سے کیا ہے
اندلس کے ثقافتی اور تہذیبی گڑھ اور ڈان ہوان کے شہر اشبیلیہ (Seville) کی روداد
قرطبہ کے قریب بسائے گئے عظیم و شان شہر کی داستان ۔۔۔ وہ شہر اب جس کا صرف نشان ہی باقی رہ گیا ہے
لیوناردو دا ونچی سے پانچ سو برس قبل کی جانے والی ایک پرواز کی روداد
ایک نابغہ ٴ روزگار، جس کی اختراعات اور ایجادات سے دنیا اس وقت بھی فیض اٹھا رہی ہے
مسجدِ قرطبہ جہاں ایک طرف مسلمانوں کے عروج کا مرقع ہے، وہیں اس کے درودیوار ان کے زوال کی داستان بھی بیان کرتے ہیں۔
تیری بنا پائیدار، تیرے ستون بے شمار ۔۔۔ شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجومِ نخیل
تمام اسلامی دنیا کی خلافت نہ سہی لیکن عبدالرحمٰن بنو امیہ کی راکھ سے سرزمینِ یورپ پر ایک نئی شان دار اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو گیا
تاریخ کے پہیے نے مجھے اندلس کے ساحل تک پہنچا دیا تھا، لیکن اس سے آگے میری تقدیر میں کیا لکھا تھا، یہ میں نہیں جانتا تھا
نوعمراو ربے سروسامان اموی شہزادے عبدالرحمٰن اول کی سنسنی خیز داستان
پندرہ سالہ شہزادی کا سمندر اور خشکی پر ہزاروں میل کا جان جوکھم کا سفر
جدید و قدیم کے سنگم پر کھڑا ہوا میڈرڈ اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہے
مسلم گھڑ سوار بار بار یلغار کرتے، لیکن ہر بار یوں پسپا ہونے پر مجبور ہو جاتےجیسے سمندر کی پرشور لہریں سنگلاخ ساحل سے سر پٹک کر رہ جاتی ہیں
ساڑھے بارہ صدیاں قبل ہونے والی ایک جنگ کا احوال جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا