پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ”راہ نجات“ میں گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران مزید 14”دہشت گردوں“ کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سراروغہ اور جنڈولہ کے قرب وجوار میں ہونے والی لڑائی میں دہشت گردوں کی طرف سے داغے گئے مارٹر گولے لگنے سے دو فوجی ہلاک ہوگئے جب کہ دیسی ساختہ بم پھٹنے سے ایک افسر سمیت تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ شکئی کے اردگرد کنڈیلا سروک کے علاقوں میں تلاشی کے دوران اسلحہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق آسمان مانزا کے علاقے پر پوری طرح کنٹرول حاصل کرنے کے بعد کنی گرام میں تلاشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ علاقہ ازبک جنگجوؤں کے زیر کنٹرول تھا لیکن فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد مقامی ذرائع کے مطابق وہ یہ علاقہ چھوڑ پر دوسرے علاقوں میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے پاکالیٹا سر اور مانزا سرکے شمال میں واقع دہشت گردوں کے تربیتی مرکز پر کارروائی کرکے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دیگر تربیتی سامان قبضے میں لے لیا۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج نے 17اکتوبر سے جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف ”راہ نجات“ کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کررکھی ہے جس میں اب تک 250سے زائد عسکریت پسندمارے جاچکے ہیں جب کہ 30کے لگ بھگ فوجی بھی اس میں ہلاک ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی اصل تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے کیونکہ لڑائی والے ان علاقوں تک صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔