عورت فاوٴنڈیشن کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں خواتین کے خلاف تشدد کے 416 واقعات منظر عام پر آئے ۔ کراچی پریس کلب میں سندھ میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال پر اپنی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے عورت فاوٴنڈیشن کے عہد داروں کا کہنا تھا کہ سال 2009ء کی پہلی سہ ماہی کی بانسبت دوسری سہ ماہی میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ واقعات سامنے آئے ۔ جنوری سے مارچ کے دوران یہ تعداد 53 تھی جو دوسری سہ ماہی میں 79 تک جا پہنچی ۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے 23 اضلاع میں اپریل سے جون کے دوران 512 افراد تشدد کا شکار ہوئے جن میں 38 مرد بھی شامل ہیں جنہیں کاروکاری کے ضمن میں قتل کیا گیا ۔
بتائے گئے دیگر اعداد و شمار کے مطابق قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 76رہی ، 38 خواتین اغواء کی گئیں ، 28 کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، 57 نے خودکشی کی ، 35 گھریلو تشدد کا شکار ہوئیں، جھلسنے کے چار اور تیزاب پھینکنے کا ایک واقعہ پیش آیا جبکہ دوران حراست تشدد ، اقدام قتل ، قبائلی و خاندانی روایات ، اقدام خودکشی اور ذہنی اور جسمانی تشدد کے 93 واقعات صوبے کے مختلف حصوں میں سامنے آئے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران خواتین سے متعلق 27 جرگے منعقد ہوئے جن میں قبائلی تنازعات اور پسند کی شادی کے مسئلے کے حل کے لئے 15 خواتین کو” ونی“ میں دیا گیا ۔
ادارے کے مطابق پیش آنے والے 416 واقعات میں سے 208 کی ایف آئی آر کاٹی گئی جبکہ 170واقعات کا اندراج نہیں ہوا اور تاخیر سے ایف آئی آر کٹنے کی وجہ سے بقیہ واقعات میں ایف آئی آر کے اندراج کا علم نہیں ہو سکا ۔ مزید برآں 39 خواتین معمولی الزامات کے تحت حراست میں لی گئیں اور پولیس تشدد کا شکار ہوئیں ۔ جبکہ پہلی سہ ماہی میں یہ تعداد 82 تھی ۔
رپورٹ میں تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کی عمریں بھی بتائی گئی ہیں جس کے مطابق 81 خواتین اٹھارہ سال یا اس سے کم عمر تھیں۔ 112 خواتین کی عمر 19 سے 36 سال کے درمیان تھی ۔ 42خواتین 37 سال سے زائد عمر تھیں جبکہ 239 خواتین کی عمروں کا علم نہیں ہو سکا ۔
اس سے قبل کراچی پریس کلب میں رپورٹ کا با قاعدہ اجراء کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس کے منفی رجحانات کی وجہ سے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا بہت بڑا فقدان ہے ۔
شرمیلا فاروقی قتل ہونے والی بچی کے والدین کے ساتھشہری اور دیہی علاقوں میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے لیکن اکثر لوگ پولیس اسٹیشن جانے سے گریز کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھاکہ کراچی میں ساڑھے تین سالہ بچی ثناء کے ساتھ زیادتی اور قتل کا حالیہ واقعہ انتہائی سنگین ہے ۔ ایسے واقعات میں پولیس کو معطل کرنے کے بجائے بر طرف کر کے سخت قانونی کاروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا رپوٹنگ کی وجہ سے جھلسنے کے واقعات میں بڑی حد تک کمی آئی ہے ۔ شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مردوں میں برداشت بہت کم ہے اور خواتین کے ساتھ تفریق ان کی پیدائش سے پہلے ہی شروع کر دی جاتی ہے ۔ جب تک یہ رویہ تبدیل نہیں ہو گا گھناوٴنے جرائم کا ارتکاب ہوتا رہے گا ۔