پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کی شام صوبائی دارالحکومت کے مرکز باچا خان چوک پر نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر کور کے ایک ناکے پر دستی بم سے حملہ کیا گیا جِس میں دو کمسن بچوں اور خواتین سمیت 11افراد شدید زخمی ہوئے۔
زخمیوں میں فوجی دستوں کے چار اہل کار بھی شامل ہیں جِنھیں علاج کے لیے فوری طور پر سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دو زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی ہے۔
سٹی پولیس کے اعلیٰ عہدے دار علی اکبر مگسی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت علاقے میں خریداری کے لیے آنے والے لوگوں کا کافی رش تھا۔
دریں اثنا ہفتے ہی کے دِن کوئٹہ کے طالبات کے ہائی اسکول پر نامعلوم افراد کی جانب سے پھینکے گئے ایک دستی بم کے پھٹنے سے دو خواتین اساتذہ زخمی ہو گئیں۔
ادارے کی پرنسپل شہزاد وقار نے بتایا کہ بم حملے میں تمام طالبات محفوظ رہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اسکول میں 13 سو کے قریب بچیاں زیرِ تعلیم ہیں جہاں اساتذہ کی تعداد 70ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسکول کے حوالے سے اُنھیں پہلے کوئی دھمکی نہیں ملی تھی۔
دونوں واقعات کی ذمےد اری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں تعلیم کے صوبائی وزیر اور یونی ورسٹی کے ایک پروفیسر کو بھی ٹارگٹ بنا کر قتل کیا گیا، جب کہ امن و امان کی خراب صورتِ حال کے حوالے سے سیاسی جماعتیں صوبائی حکومت کو مسلسل سخت تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔