حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مرکز میں اُس کی بڑی اتحادی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماؤں کے درمیان جمعے کے روز دبئی میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ستار نے بتایا کہ ملاقات عام نوعیت کی تھی جِس میں مختلف مرحلوں پر طے ہونے والے معاملات پر عمل درآمد کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔
اُنھوں نے بتایا کہ دبئی کے مذاکرات اُسی مشاورت کی ایک کڑی تھے، اوریہ دونوں اتحادی جماعتوں کے مابین جاری اشتراکِ عمل پر عمومی نوعیت کے مذاکرات تھے۔ ‘جو اہم بات ہمارے اور اُن کے درمیان طے ہوئی ہے وہ یہ کہ ہم باہم باقاعدہ مشاورت کے ذریعے عوام کے مسائل حل کریں گے۔’
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے ہفتے کے روز میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے حکمراں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ دونوں اتحادی جماعتیں ہیں، اورسیاست میں کسی معاملے پر نقطہٴ نظر میں اختلاف ہو سکتا ہے۔
‘جہاں تک قومی مفاہیتف آرڈیننس (این آر او) کا تعلق ہے اُس میں ہم نے اُن کو اعتماد میں لیا تھا کہ ہم این آر او کو سامنے نہیں لانا چاہ رہے۔ اِس کے علاوہ کوئی بات نہیں جِن کے بارے میں اُن کے ہمارے ساتھ کوئی تحفظات ہوں۔ اگر کوئی ہوں گے تو اُنھیں حل کیا جاسکتا ہے۔’
حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے گلگت بلتستان میں جلسہ ٴ عام سے خطاب میں متنازع قومی مفاہمتی آرڈیننس کو قومی اسمبلی میں نہ لانے کے حکومتی فیصلے کے بارے میں کہا کہ پاکستان میں اِس وقت جو سیاست چل رہی ہےاُس میں ‘ہم نے این آر او پر اپنا موقف اختیار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اِس کو کسی طور قبول نہیں کریں گے۔ اور پھر وہ پارلیمنٹ کے اندر نہیں آیا۔ زرداری صاحب نے پھر اُس کو روک دیا۔ اچھا کام کیا۔’
اُدھر صدر آصف علی زرداری نے اپنی جِن اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں کی ہیں اُن میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)بھی شامل ہے۔
اے این پی کے مرکزی ترجمان، سنیٹر زاہد خان نے ملاقات کے بارے میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ صدر زرداری کو کوئی مشکلات درپیش ہیں۔ ‘این آر او ویسے ہی عدالتوں میں چلا گیا۔ آئندہ وہی فیصلہ کریں گی۔ باقی تو کوئی مجھے بحران نظر نہیں آرہا۔’ اُن کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات معمول کی ملاقات تھی۔
عوامی نیشل پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت حکمراں اتحاد میں شامل ہے اور وہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی۔