این آر اوپارلیمان میں پیش نہیں کیا جائے گا
ایازگل،حسن سید
|
اسلام آباد
3.11.09
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایوان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ متنازع قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر اوکو پارلیمان میں پیش نہیں کیا جائے گا اوراس فیصلے کا مقصد پارلیمنٹ کی بالا دستی کوقائم رکھنا ہے۔
اس سے قبل پیر کو رات دیر گئے صدرآصف علی زرداری کی سربراہی میں حکمران پیپلز پارٹی کا ایک اجلاس ہوا جس کے بعد صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نےصحافیوں کو بتایا کہ حزب مخالف کی جما عتوں کی طرف سے بھرپور مخالفت کے بعد حکومت نے قومی مصالحتی آرڈینس کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد این آر او کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
خیال رہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کی پارلیمان سے منظوری کی کوششوں کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بظاہر متحد ہو گئیں اور پیر کو مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے اپنی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس کے بعد ان دونوں جماعتوں کی قیادت نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ این آر او قومی اسمبلی سے منظور کرانے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کی جائے گا۔
جب کہ حکمران پیپلزپارٹی کی ایک بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس متنازع صدارتی حکم نامے پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کی منظور ی کے حق میں ووٹ نہ دینے کا عندیہ دیا تھا جس سے بظاہر حکمران جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ۔ جب کہ حکمران جماعت کی ایک دوسری اتحادی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے بھی اس معاملے پر حکومت کے حق یا مخالفت میں کوئی واضح بیان دینے کی بجائے یہ کہا تھا کہ اُن کی جماعت این آرا و کے معاملے پر ملکی حالات کو مدنظر رکھ کرجلد فیصلہ کرے گی ۔
اب حکومتی نمائندے اپوزیشن جماعتوں کو یہ پیش کش کر رہے ہیں کہ وہ این آر او کے معاملے پر حکومت کے ساتھ تصادم کی بجائے مفاہمت کا رااستہ اپنائے ۔
وزیر داخلہ رحمان ملک نے ذرائع ابلاغ سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس صدارتی حکم نامے پر تنقید کرنے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ اسی کی بدولت تھا کہ ملک میں جمہوریت بحال ہوئی ، سابق فوجی صدر پرویز مشرّف کو وردی اتارنا پڑی اور آمریت کا خاتمہ ہوا ۔
جب کہ پی پی پی کی ایک اور رہنما فرزانہ راجہ نے منگل کے روز وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ این آر او کو اگرچہ فی لحال ایوان میں پیش نہیں کیا جا رہا لیکن ان کے مطابق اس پر اب بھی اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات کی گنجائش موجود ہے اور ان سے بات چیت کے بعد ہی حکومت اس قانون کے مستقبل کے حوالے سے اعلان کرے گی ۔
صدر زردای کے مستقبل کے بارے میں سیاسی حلقوں میں ہونے والی قیاس آرائیوں اور انھیں ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے استعفیٰ دینے کے مشورے کی خبروں پر فرزانہ راجہ نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت عوام کے بھاری مینڈیٹ سے حکومت میں آئی ہے اور صدر زرداری کے خلاف کوئی تحریک چلانا جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہوگا ۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ ق کے رہنما این آر او کےمعاملے پر حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو خارج ازامکان قرار دے رہے ہیں ۔
ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر چوھدری نثار کا کہنا ہے کہ صدر زرداری ان کے بقول سابق فوجی صدر پرویز مشرّف کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور انھیں یہ طرز عمل بدلنا ہوگا ۔
چوھدری نثار کے مطابق صدر زرداری کی سیاسی مشکلات کا خاتمہ تب تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ این آر اواور سترھویں آئینی ترمیم سمیت آمرانہ حکومت کی طرف سے کیے گئے تمام اقدامات کو واپس نہیں لیتے ۔
مسلم لیگ ق کی ایک رہنما ماروی میمن کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا موقف این آر او کے بارے میں بالکل واضح ہے اور کسی بھی صورت اس پر حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گئے گا۔