پاکستانی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ امریکی وزرات دفاع کے انڈرسیکریٹری پال اے برنکلے کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے اس وفد کا مقصد حکام اور کاروباری حلقوں سے ملاقاتیں کر کے دہشت گردی اور امن وامان کی خراب صورت حال کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کارروں کو پاکستان کی طرف راغب کرنا ہے ۔
بورڈ آف انسوسٹمنٹ کے چیئرمین اور سرمایہ کاری کے وزیر مملکت سلیم مانڈی والا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکی وزارت دفاع کے وفد کا یہ دورہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کا تسلسل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ وفد اس بات کو یقینی بنائے گا کہ سلامتی کے خدشات کے باوجود پاکستان کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری میں کوئی روکاوٹ نہ آئے۔
سلیم مانڈی والا نے کہا کہ یہ امریکی وفد اس سے قبل عراق اور افغانستان میں بھی بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کام کرتارہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ امریکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا اس وقت سب سے بڑا ملک ہے اور گذشتہ سال پاکستان میں ہونے والی غیر ملکی سرمایہ کاری میں سے 40فیصد حصہ امریکہ کا تھا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ امریکی وفد نے پاکستانی حکام اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے صنعت کاروں سے مل کر ملک میں دیگر شعبوں کے علاوہ صنعت اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔اُنھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی سرمایہ کاری کا معاہدہ آئندہ سال طے پا جائے گا۔
پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں سے ملک میں نہ صرف بیر ونی بلکہ مقامی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور اس سب سے زیادہ متاثر شمالی مغربی صوبہ سرحدہوا ہے اور اسی تناظر میں وفاقی اور صوبہ سرحد کی حکومتیں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ جن کاروباری حضرات نے قرضے لے رکھے ہیں اُن کی شرح سود میں کمی کی جائے اور نئی سرمایہ کاری کرنے والوں کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔
دہشت گردی سے شدید متاثرہ پاکستانی صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر اور صنعت کار الیاس بلور نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا”جہاد“ کرنے کے مترادف ہے کیوں کہ خوف و ہراس نے معمولات زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔