دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بھارتی خارجہ سیکریٹری کے اُس حالیہ بیان کہ مضحکہ خیز قرار دیا ہے جس میں عالمی برادری سے کہا گیا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کراسے مجبور کیا جائے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کے اپنے وعدوں کو پورا کرے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی ایک علاقائی اور عالمی مسئلہ ہے اور اس کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کارکردگی اور عزم کو بین الااقوامی برادری نے سراہا ہے۔
جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ بھارت الزامات لگانے کی بجائے خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی سر پرستی سے متعلق اپنے کردار کی وضاحت کرے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پاکستان کے ہاتھ لگے ہیں اور اس معاملے کو بھارتی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ تلخ بیانات کا تبا دلہ پاکستانی فوج کے ترجمان کے ایک متنازع بیان کے بعد شروع ہوا ہے جس میں انھوں نے الزام لگایا تھاکہ جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں بھارتی ساخت کا بارود اور اسلحہ فوج کے ہاتھ لگا ہے ۔ لیکن بھارتی وزیر خارجہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے جواباً یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ایک مئوثر حکومت کا فقدان ہے اور وہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پاکستان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ یک طرفہ طور پر معطل کردیا تھا جو تا حال شروع نہیں ہو سکا ہے ۔ بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ ممبئی حملوں کا منصوبہ پاکستانی سرزمین پر تیار کیا گیا اور نئی دہلی نے ان افراد کے خلاف موثر کارروائی کو امن بات چیت کی بحالی سے مشروط کر رکھا ہے۔ تا ہم پاکستان کا موقف کہ ہے کہ بھارت نے اب تک جتنے شواہد پاکستانی تفتیش کاررو ں کو دیے ہیں وہ بھارتی الزامات کو عدالت میں ثابت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔