ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

صوبہ سرحد میں تعلیمی ادارے کھل گئے

شیئر کیجیئے

صوبہ سرحد میں تقریباً دوہفتوں سے زائد عرصے کی بندش کے بعد تعلیمی ادارے پیر سے دوبارہ کھل گئے ہیں ۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی نے ایک سرکاری تعلیمی ادارے کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور محکمہ تعلیم کی کوشش ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جائے ۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبے میں تقریباً27 ہزار سرکاری سکول ہیں جب کہ پولیس کی تعداد53 ہزار ہے اور امیر حید ر خان ہوتی کے بقول اگر ہر سکول میں دو اہلکار بھی تعینات کیے جائیں تو پھر دیگر اُمور کی انجام دہی کے لیے پولیس موجود نہیں ہو گی اور ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا ۔

وزیراعلیٰ امیر حید ر خان ہوتی نے کہا کہ امن وامان بحال رکھنے کی اولین ذمہ داری حکومت کی ہے تاہم طالب علموں ، اساتذہ سمیت معاشرے کے ہر فرد کو اس میں اپنا کردار کرنا ہوگا۔

 وفاقی دارالحکومت میں بھی گذشتہ دو ہفتوں سے بندبیشتر نجی سکول دوبارہ کھول دے گئے ہیں جب کہ بعض بڑے نجی تعلیمی ادارے مزید ایک ہفتے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اداروں کی سکیورٹی بہتر بنائیں ۔

واضح رہے کہ جنوبی وزیرستان میں17 اکتوبر سے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد شدت پسندوں کے ممکنہ رد عمل کے خدشے کے باعث فوج کے زیرانتظام تما م سکولوں کو ایک ہفتے کے لیے بند کردیا تھا لیکن 20 اکتوبر کو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ہونے والے دو خودکش بم دھماکوں کے بعد ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے جن میں اکثر تقریباً ایک ہفتے تک بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دیے گئے ۔