ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

این آر او پر پیپلز پارٹی کی مشکلات

شیئر کیجیئے

حکمران پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی این آر او کی پارلیمان سے منظوری کی کوششوں کے خلاف حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بظاہر متحد ہو گئی ہیں جب کہ حکمران پیپلزپارٹی کی ایک بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس متنازع صدارتی حکم نامے پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اس کی منظور ی کے حق میں ووٹ نہ دینے کا عندیہ دیا ہے جس سے بظاہر حکمران جماعت کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایم کیوایم کے رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی نے پیر کو میڈیاسے بات چیت میں کہا کہ اُن کی جماعت این آراوسے استفادہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی ایک دوسری اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان نے بتایا ہے کہ اُن کی جماعت این آرا و کے معاملے پر ملکی حالات کو مدنظر رکھ کرجلد فیصلہ کرے گی ۔

اسلام آباد میں پیر کومسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاسوں کے بعد ان جماعتوں کے قائدین نے الگ الگ پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این آر اوجیساقانون بنانا پاکستان کے جمہوری اداروں کو داغ دارکرنے کے مترادف ہے۔  نواز شریف نے کہاکہ ایسی قانون سازی سے” صدر آصف علی زرداری کو پرہیز کرنا چاہیے“ کیوں کہ مسلم لیگ (ن) ایسے کسی اقدام پر سمجھوتا نہیں کرے گی۔  اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت این آر او پر کوئی درمیانی راستہ اختیارکرنے کی بجائے اس کی ”ڈٹ کر مخالفت“ کرے گی ”حکومت سے درخواست ہے کہ این آر او کو پارلیمان میں پیش کرنے سے گریز کر ے اور جموریت کو امتحان میں نا ڈالے“۔

 مسلم لیگ (ن ) کے سربراہ نواز شریف نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ این آر او کے تحت اُن کی سیاسی جماعت کے ارکان کے مقدمات بھی معاف کیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ (ق)کے قائدین چودھری شجاعت حسین، پرویز الہی اور سابق صدر فاروق لغاری نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اُن کی جماعت ملکی مفاد اور ایک شخص (صدر زرداری) کو تحفظ دینے کے قانون کی بھر پور مخالفت کرے گی۔

پارلیمان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کے ارکان کی نمائندگی کرنے والے رکن قومی اسمبلی منیر اورکزئی کا کہنا ہے کہ فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ این آر او کے خلاف ووٹ دیں گے کیوں کہ اُن کے بقول وہ قومی دولت لوٹنے والوں کو معافی دلوانے میں حصہ دار نہیں بننا چاہتے۔

پیپلزپارٹی کی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب کے مطابق این آر او پر تنقید کرنے والوں کو یہ سمجھناچاہیے کہ یہ وہ قانون ہے جس نے قومی مفاہمت کو فروغ دیااور ملک میں دشمنی اور بدلے کی سیاست کا خاتمہ کیا ہے۔  اُنھوں نے پیر کواسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کی ہی بدولت 2008 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے سب سے کم الزامات سامنے آئے ہیں اور فوزیہ وہاب کے بقول اس قانون کی شق نمبر تین کی وجہ سے انتخابی عمل میں شامل ریٹرنگ افسروں کو دھاندلی کا موقع ہی نہیں ملا۔

 یہ امر قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی 125نشستیں ہیں اور سادہ اکثریت سے این آر او کی منظوری کے لیے اسے ہر صورت میں اپنی ایک بڑی اتحادی جماعت ایم کیوایم کے 26 اراکین کی ضرورت ہوگی ۔