مقامی حکام نے بتایا ہے کہ مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانوں پر فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے بمباری کر کے کم از کم دس جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔
یہ کارروائی منگل کی شب علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد کی گئی جس میں دو فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔ مزید برآں حکام نے بتایا ہے کہ بائی زئی کے علاقے میں اس چیک پوسٹ پر تعینات 44 دوسرے اہلکار جو جھڑپ کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے اب باحفاظت واپس آگئے ہیں ۔
اُدھر پشاور پولیس نے کارروائی کر کے ڈبگری اور شوبہ چوک سے چھ مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
دریں اثنا چارسدہ کے مصروف ترین فاروق اعظم چوک میں ہونے والے خودکش کاربم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے جب کہ 40 زخمیوں میں سے 10 کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ صوبہ سرحد میں برسراقتدار جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کے آبائی علاقے میں ہونے والے اس بم دھماکے کے بعد شہر میں تین روزہ ہڑتال جاری ہے اور ماحول سوگوار ہے۔