
حکومت پاکستان نے نئی حج پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمندوں سے کہا ہے کہ وہ درخواست فارم کے ہمراہ مشین ریڈایبل انٹرنیشنل پاسپورٹ جمع کرادیں کیونکہ حکام کے بقول سعودی حکومت نے مخصوص حج پاسپورٹ پر ویزہ لگانے سے انکار کیا ہے جس پر حج کے خواہشمند وں نے شدیداحتجاج کیا ہے۔
ان افراد کے بقول نئے پاسپورٹ کے بننے میں کم از کم ایک ماہ کا وقت درکار ہے اور اس کے لوازمات پورے کرنے میں بھی ایک عرصہ لگ جاتا ہے۔ زیادہ تر افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بھر پورخواہش کے باوجود بھی اس سال حج پر نہیں جاسکیں گے۔ کوئٹہ میں پاسپورٹ دفتر کے سامنے ایک لمبی قطار میں کھڑے 57سالہ محمدطاہر نے بتایا کہ وہ خانوزئی کے علاقے سے آئے ہیں اور صبح نماز پڑھنے کے بعد ہی آکر قطار میں لگ گئے مگر دوپہر ایک بجے تک باری نہیں آئی جبکہ حج درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 11جولائی ہے۔
واضح رہے کہ رقبے کے لحاظ سے وسیع و عریض بلوچستان صوبے میں پاسپورٹ کے صرف تین دفاتر ہیں جو کوئٹہ ،تربت اور ژوب کے اضلاع میں کام کر رہے ہیں اکثر درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ وہ سینکڑوں میل دور سے سفر کرکے آئے ہیں مگر یہاں حج پاسپورٹ کیلئے نہ تو علیحدہ بوتھ قائم کئے گئے ہیں اور نہ ہی اضافی اسٹاف ہے جبکہ پاسپورٹ کا پورا نظام اسلام آباد میں ہے۔ ایران کے قریب سرحدی شہر تفتان سے 700کلو میٹر کا سفر طے کرکے آنے والے ظہور بلوچ نے بتایا کہ وہ تین دن سے مسلسل چکر لگارہا ہے اور ہر مرتبہ کسی نہ کسی کاغذ کی کمی کا بہانہ کرکے واپس کردیاجاتا ہے اب تنگ آکر اس نے حج کرنے کا ارادہ ہی ترک کردیا ہے۔
چمن کے شمس اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے حج کو ایک منافع بخش کاروبار بنادیا ہے اب ہر شخص جلدی میں ارجنٹ پاسپورٹ کیلئے 4ہزار کی فیس جمع کرا رہا ہے مگر اس کے باوجود کام ست روی سے ہورہا ہے اور امید نہیں کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اس برس حج پر جاسکیں۔نوشکی سے اپنی والدہ کے ہمراہ آنے والے ایک نوجوان گلزار احمد نے بتایا کہ وہ پاسپورٹ کے حصول کیلئے کوئٹہ کے ایک ہوٹل میں رہ رہا ہے جس کے کرایے کی مد میں اس سے دس ہزار روپے سے زیادہ خرچ ہوئے اور یہاں صورتحال یہ ہے کہ شام پانچ بجے کی بجائے دوپہر12بجے اعلان کردیا جاتا ہے کہ ٹوکن بند ہوگیا ہے۔
حج کے ایک ٹور آپریٹر قاری زرداد نے کہا کہ حکومت کو کمپیوٹرائزڈ پاسپورٹ کا اعلان پہلے کردیناچاہئے تھا تاکہ لوگ تیاری کرلیتے مگر ان کے بقول اس ملک میں ہر کام ایڈہاک بنیادوں پر یا آخری وقت پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں حاجیوں کے رہ جانے کا خطرہ ہے اور اس سے حکومت کو ہی نقصان ہوگا۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال ایک لاکھ 60ہزار افراد حج پر جاسکیں گے ۔کوئٹہ اورکراچی سے سرکاری قرعہ اندازی پرجانے والے عازمین سے ایک لاکھ 85ہزار جبکہ ملک کے دوسرے حصوں سے جانے والے افراد فی حاجی دو لاکھ روپے جمع کرائیں گے۔