ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • اتوار, 29 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

گلگت بلتستان :پولنگ کا مرحلہ ختم، ووٹوں کی گنتی جاری

24 رکنی قانون ساز اسمبلی میں سے 23 نشستوں پر 250 سے زائد اُمیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل تھے جب کہ ایک حلقے پر ایم کیو ایم کے اُمیدوار کے انتقال کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے ۔

شیئر کیجیئے

حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے گلگت بلتستان کے لیے اعلان کردہ نئے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے تحت اس علاقے کی 24 رکنی قانون ساز اسمبلی میں سے 23 نشستوں پر 250 سے زائد اُمیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل تھے جب کہ ایک حلقے پر ایم کیو ایم کے اُمیدوار کے انتقال کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے ۔ پولنگ کا عمل ختم ہونے کے بعد اب ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کی رات سے ابتدائی نتائج سامنے آناشروع ہو جائیں گے تاہم سرکاری نتائج کا عمل جمعے کے روز مکمل ہونے کی توقع ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ شدید سردی کے باوجود بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے انتخابی عمل میں حصہ لیاہے ۔ ان انتخابات میں سات لاکھ سے زائد اہل ووٹروں کے لیے قائم تین ہزار پولنگ سٹیشنو ں پر پر امن انتخابات کے انعقاد کے لیے تقریباً پانچ ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جب کہ فوج کو بھی مختلف علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اُنھیں طلب کیا جا سکے۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پرپولنگ کا عمل پرامن رہاتاہم بعض علاقوں میں تشدد کے اکادکاواقعات سامنے آئے جن میں کچھ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان انتخابات کا جائزہ لینے کے لیے ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے علاوہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے مبصرتعینات کررکھے تھے ۔

 ان انتخابات میں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے اُمیدواروں نے حصہ لیا اور ا ن جماعتوں کے رہنماؤں نے گلگت بلتستان میں گذشتہ ہفتے کے دوران بڑے سیاسی اجتماعات سے بھی خطاب کیا ۔ ان پارٹیوں میں قابل ذکر پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ شامل ہے جس نے پہلی مرتبہ اس انتخابی عمل میں حصہ لیا اور دلچسپ امر یہ ہے روایات کے برعکس علاقے میں مقبول پیپلزپارٹی کے اُمیدواروں کے مقابلے میں ایم کیو ایم ایک مضبوط حریف کے طور پر سامنے آئی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے رواں سال اگست میں شمالی علاقہ جات کے لیے نئے اصلاحاتی پیکج کے اعلان کے بعد اس علاقے کا پرانا نام گلگت بلتستان بحال کیا گیا ہے جس کے بعد یہاں ہونے انتخابات میں پہلی بار قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان میں صوبے کی طرز پر اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرے گی اور اس وجہ سے انتخابی عمل کے دوران اس علاقے میں ہونے والی سیاسی گہما گہمی فروری 2008 میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات سے بھی زیادہ تھی۔

گلگت بلتستان انتخابات کی نگرانی میں شریک غیر سرکاری تنظیم فافین ((FAFENکے نمائندے سرور باری نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کا اصل امتحان الیکشن کے بعد شروع ہو گا جب عوام سے کیے گئے اُن وعدوں کو پورا کرنے کا وقت آئے گا جن کی بنیاد پر یہ اپنی انتخابی مہم چلاتی آئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکمران پیپلز پارٹی سمیت انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی طرف سے انتخابی مہم کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں عوام سے ایسے وعدے کرناشامل ہے جو ان جماعتوں کے منشور میں درج نہ ہوں۔

سرور باری نے متحدہ قومی موومنٹ کے اس بیان پر کہ وہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کے لیے جدوجہد کرے گی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے کیونکہ اس علاقے کی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کرنا ابھی باقی ہے۔

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے شمالی علاقوں کے سابق وفاقی وزیر نثار میمن کے مطابق وزیر اعظم گیلانی اور مسلم لیگ (ن)کے قائد نواز شریف کی طرف سے انتخابی مہم میں سرکاری وسائل کا استعمال کیا گیا ہے جو ان کے بقول قبل از انتخابات دھاندلی کا حصہ ہے۔

اُدھروفاقی وزیر اطلاعات اور گلگت بلتستان کے قائم مقام گورنر قمر الزمان کائرہ ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف اور دھاندلی سے پاک ہے ۔ ان کے مطابق انتخابی عمل کی تمام نگرانی متعلقہ اداروں نے کی ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔