ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر

جگہ جگہ انتخابی ریلیاں منعقد کی جار رہی ہیں جن سے اپنے خطابات میں امیدوار اور پاکستان میں ان کی پارٹیوں کے رہنما گلگت بلتستان کے حالات تبدیل کرنے اور انھیں برابر حقوق دلانے کے وعدے کررہے ہیں۔

شیئر کیجیئے

ماضی کے برعکس اس بار یہ انتخابات اگست میں مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ انتظامی و سیاسی اصلاحات کے تحت منعقد کیے جار رہے ہیں جنہیں ایک صدارتی حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے

گلگت بلتستان کی 24 ارکان پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابات 12نومبر کو ہوں گے اور اس میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے امیدوارحصہ لے رہے ہیں۔ ان میں قابل ذکر حکمران پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ شامل ہے جو پہلی مرتبہ اس انتخابی عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

 علاقے میں ان دنوں سیاسی سرگرمیا ں عروج پر ہیں اور جگہ جگہ انتخابی ریلیاں منعقد کی جار رہی ہیں جن سے اپنے خطابات میں امیدوار اور پاکستان میں ان کی پارٹیوں کے رہنما گلگت بلتستان کے حالات تبدیل کرنے اور انھیں برابر حقوق دلانے کے وعدے کررہے ہیں۔

روایتی طور پر ان انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مقابلہ ہوتا آیا ہے اور پیپلز پارٹی کو بر تری حاصل رہی ہے لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ انتخابی دوڑ میں پہلی مرتبہ حصہ لینے والی ایم کیو ایم بظاہر پیپلز پارٹی کے لیے ایک بڑی حریف کے طور پر سامنے آئی ہے اور علاقے میں غیر جانبدار مبصرین اس اچانک تبدیلی پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں ۔متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما حیدر عباس رضوی نے وائس آف امیکہ کے ساتھ انٹرویو میں اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں، خصوصاََ طالب علموں کی ایک بڑی تعداد کراچی میں مقیم ہے جو گلگت بلتستان میں ایم کیو ایم کی حمایت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کی ماروی میمن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں الزام لگایا کہ حکمران پیپلز پارٹی قبل از انتخابات دھاندلی میں ملوث ہے اور اگست میں اصلاحات کے پیکیج کا اعلان بھی ان کے بقول اسی سلسلے کی کڑی تھی تاکہ اپنے امیدواروں کے لیے ووٹروں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔

ماضی کے برعکس اس بار یہ انتخابات اگست میں مرکزی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ انتظامی و سیاسی اصلاحات کے تحت منعقد کیے جار رہے ہیں جنہیں ایک صدارتی حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے اور جس کے بعد تقریباً 20 لاکھ آبادی پر مشتمل اس علاقے کا پرانا نام یعنی گلگت بلتستان بحال کردیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت اس مرتبہ منتخب ہونے والی قانون ساز اسمبلی صوبے کی طرز پر پہلی بار وزیر اعلیٰ منتخب کرے گی جبکہ مرکزی حکومت کی نمائندگی کے لیے گورنر مقرر کیا جائے گا۔

مقامی مبصرین اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ انتخابات کے بعد منتخب وزیر اعلیٰ کو انتظامی فیصلوں کا اختیار حاصل ہو گا اور گورنر کا تقرر بھی مقامی آبادی سے کیا جائے گا کیونکہ دوسری صورت میں ان ناقدین کے بقول نئی اصلاحات سے مقاصد کا حصول مشکل ہوگا۔

قیام پاکستان سے پہلے یہ علاقہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا لیکن 1947 ء میں اس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے ووٹ دیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کشمیر کے ساتھ اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اس لیے مقامی لوگوں کی طرف سے بار بار مطالبات کے باوجود پاکستانی حکومت اسے صوبے کا درجہ نا دینے کی پابند ہے۔