ہلری کلنٹن قبائلی اور صوبہ سرحد کے نمائندہ وفد سے ملاقات کررہی ہیں
امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستان میں قیام کے تیسرے اور آخری روزبھی حکام سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے نمائندہ وفود سے بات چیت کی۔ اس سلسلے میں جمعے کے روز اسلام آباد میں خواتین صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کے علاوہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کی نمائندگی کرنے والے وفود سے بھی ایک اہم ملاقات کی ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ قبائلی علاقوں میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف روز مرہ کی زندگی متاثر ہوئی ہے تو دوسری طرف صوبہ سرحد میں آ ئے دن خودکش حملوں اور تشدد کے دوسرے واقعات نے بھی لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ فاٹا اور سرحد کے نمائندہ وفود سے ملاقات اُس امریکی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان کے ہر طبقے اور ہر علاقے کے رہنے والوں تک پہنچنا شامل ہے تاکہ امریکہ کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکے۔
اس ملاقا ت میں شامل مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء اور صوبہ سرحد کے سابق وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ نے وائس آف امریکہ کوبتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے رابطے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں ۔
خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورے کو صر ف پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ لاہور اور اسلام آباد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفود بالخصوص صحافیوں اور نوجوانوں سے ملاتیں کر کے اُن کے تند وتیز سوالات کے جوابات بھی دیے۔ اُنھوں نے اپنے دورے میں یہ بھی کہا کہ وہ عوامی سفارت کاری پر یقین رکھتی ہیں کیوں کہ اُن کے بقول طویل المدت تعلقات کی مضبوطی کا یہی راستہ ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے اپنے دورہ پاکستان میں تعلیم ، توانائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استداد کار بہتر بنانے کے لیے کروڑوں ڈالر امدا داور منصوبوں کا اعلان بھی کیا۔ پاکستان میں مبصرین نے ہلری کلنٹن کے اس دورے کو دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔