ایک روز قبل پشاور کے مضافات میں متنی کے علاقے میں ایک خودکش بم دھماکے میں حکومت کے حامی ایک مقامی ناظم سمیت 13 افراد ہلاک ہوگے تھے۔
یہ واقعہ پیر کی صبح پشاور کے مصروف رنگ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار ایک رکشے کو روک کر اس کی تلاشی لے رہے تھے اور اس دوران سواری کے روپ میں اندر موجود خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس حملے میں رکشا ڈرائیور، ایک پولیس اہلکار اور ایک راہ گیر سمیت چار افراد ہلاک جب کہ چار زخمی ہوگئے۔
ایک روز قبل پشاور کے مضافات میں متنی کے علاقے میں ایک خودکش بم دھماکے میں حکومت کے حامی ایک مقامی ناظم سمیت 13 افراد ہلاک ہوگے تھے۔ حملے کا نشانہ بننے والے ناظم عبدل المالک علاقے میں طالبان مخالف لشکر کے امیر بھی تھے اور ان پر پہلے بھی کئی قاتلانہ حملے ہو چکے تھے۔
پشاور اور اس کے ارد گرد علاقوں میں حالیہ مہینوں میں دہشت گردی کے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر کے اواخر میں شہر کی مصروف پیپل منڈی کے مینا بازار میں کار بم دھماکے میں 115 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔