ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

لوڈشیڈنگ کے خلاف بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال

شیئر کیجیئے

’گذشتہ چار برسوں سے عین اُس وقت بلوچستان میں بجلی کا بحران پیدا کردیا جاتا ہے جب اُن کے باغات اور فصلیں تیار ہونے کا موسم ہوتا ہے‘

بدھ کے روز بلوچستان میں زمینداروں کی انجمن کی اپیل پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔

ہڑتال کے باعث صوبے کو ملک کے دوسرے علاقوں سے ملانے والی تمام بڑی شاہراہیں ٹریفک کے لیے بند تھیں۔

انجمن کے جنرل سیکریٹری عبد الرحمٰن بازئی نے بتایا کہ گذشتہ چار برسوں سے عین اُس وقت بلوچستان میں بجلی کا بحران پیدا کردیا جاتا ہے جب اُن کے باغات اور فصلیں تیار ہونے کا موسم ہوتا ہے۔ اُن کے بقول گذشتہ سال بھی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث زمینداروں کو چھ ارب روپے سے زیادہ کا نقصان اُٹھانا پڑا۔

دوسری طرف کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سربراہ شفیق خٹک نے بتایا کہ بجلی کے تباہ شدہ ٹاورز کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

اُن کے بقول صوبے کے عوام کو مزید چار سال تک بجلی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جب تک دادو خضدار، اور ڈی جی خان لورالائی لائنیں مکمل نہیں ہوجاتیں اور مجوزہ 200میگاواٹ رینٹل پاور ہاؤس کی خدمات میسر نہیں آ جاتیں۔ صوبے کی بجلی کی ضروریات 1200میگاواٹ ہیں جب کہ اِس وقت 700میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

بلوچستان میں نجی اور سرکاری مدوں میں بڑی صنعتوں کے نہ ہونے کے باعث یہاں کے عوام کی اکثریت زرعی شعبے سے وابستہ ہے۔