جاپان نے افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے آئندہ پانچ سالوں کے دوران پانچ ارب ڈالرکی نئی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔
منگل کو جاپانی ذرائع ابلاغ میں وزارت ِخارجہ کے عہدے داروں کے حوالے سے دی گئی اس خبر کے مطابق یہ رقم پولیس کی استعداد بڑھانے اور طالبان سے تعلق ختم کرنے والے افراد کو نوکریوں کے حصول میں مدد سے متعلق تربیت دینے کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ اس امداد کا کچھ حصہ زراعت، انتظامی ڈھانچے اور تعلیم کی بہتری کے منصوبوں پر بھی خرچ کیا جائے گا۔
جاپان نے حالیہ برسوں میں افغانستان میں تعمیر نو کے منصوبوں پر دو ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس وقت جاپان کے دو بحری جہاز بحرِِ ہند میں اُن جہازوں کو اِیندھن اورضروری تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں جو افغانستان میں امن و استحکام قائم کرنے اور تعمیر نو کی بین الاقوامی کوششوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن اس سال ستمبر میں بننے والی نئی جاپانی حکومت کی قیادت نے اعلان کر رکھا ہے کہ یہ مشن جنوری کے بعد جاری نہیں رکھا جائے گا۔
توقع ہے کہ جاپانی وزیر اعظم یوکی او ہاتو یاما نئی امداد کے پیکج کا اعلان جمعہ کو ٹوکیو میں ہونے والے سربراہ اجلاس کے موقع پر کریں گے جس میں امریکی صدر براک اوباما بھی شرکت کررہے ہیں جو ان دنوں افغانستان کے بارے میں امریکہ کی حکمت عملی کا ازسر نو جائزہ لے رہے ہیں۔
پیر کے روز نیٹو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی صوبے قندوز میں آپریشن کر کے بین الاقوامی اور افغان فوجوں نے آٹھ کمانڈروں سمیت 130طالبان جنگجووں کو ہلاک کردیا تھا۔ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی گذشتہ ہفتے چہار درہ ضلع میں کی گئی جس کا مقصد علاقے میں شورش پسندانہ کارروائیوں اور اسلحہ کی سمگلنگ کا خاتمہ تھا۔