شمال مغربی پاکستان میں طالبان جنگ جوؤں نے پشتو سروس کے ایک نامہ نگار کاگھر بموں سے تباہ کردیا ہے
وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ڈیوا کے نامہ نگار رحمان بونیری کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات چند درجن جنگ جو ضلع بونیر میں اُن کے خاندانی گھر پر پہنچے اور اُن کے والد سے کہا کہ چونکہ تمہارا بیٹا جنگ جوؤں کے خلاف باتیں کرتا ہے، اس لیے انہیں اس گھر کو دھماکے سے اُڑا دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
بونیری نے کہا ہے جنگ جوؤں نے اُن کے خاندان کے 11 افراد کو گھر سے باہر نکل جانے کی اجازت دے دی اور پھر گھر سے قیمتی اشیا لوٹنے اور توڑ پھوڑ کے بعد گھرکو دھماکوں سے اُڑا دیا۔
حملے کے وقت بونیری گھر میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ خاندان کو لے کر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔
اُن کا خیال ہے کہ طالبان نے یہ کارروائى اُن کی اُس حالیہ رپورٹ کے جواب میں کی جس میں بونیری نے کہا تھا کہ حکومت کے ان دعووں کے باوجود کہ علاقے سے طالبان کا بیشتر صفایا کردیا گیا ہے، بونیر کے کئى دیہات میں طالبان جنگجو ا بھی تک سڑکوں پر گشت کررہے ہیں۔
بونیری نے کہا ہے کہ جنگ جوؤں نے اُنہیں دھمکی دی ہے کہ اگر اُنہوں نے اپنی رپورٹنگ بند نہ کی تو وہ اُن کے خلاف مزید کارروائى کریں گے۔