ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پاکستان میں دہشت گردی پر کنٹرول کا انحصار امریکی پالیسی پر ہے: لیزا کرٹس

شیئر کیجیئے

پاکستان ہو یا امریکہ دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے  ایسے تجزیہ کاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو  انتہا پسندی سے نمٹنے  کے لیے  فوجی حل کی افادیت کو محدود تصور کرتے ہیں ۔اس نقطہ نظر  کے  مطابق  ماضی قریب میں عراق اور افغانستان  کی تاریخ  اس  کا ثبوت ہے کہ  مسئلہ جو بھی ہو  آخر کار سیاسی عمل دخل سے ہی اس کا پائیدار  حل نکل سکتا ہے ۔پاکستان میں   عسکریت  پسندی  کا خطرہ کتنا  سنجیدہ ہے اور اس کے حل کے لیے امریکہ اپنے حلیف سے کس قسم کا تعاون  کرنے کا خواہش مند ہے یہ ہے۔

خطے کے بارے میں اسے ایک انسائیڈر ز ویو پوانٹ کہا  جاسکتا ہے ۔اور ریٹائرڈ جنرل جہانگیر کرامت  کے ،جو   افواج پاکستان کے چیف آف آرمی  سٹاف اور امریکہ کے لیئے پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں ،واشنگٹن میں واقع ایٹلانٹک کونسل سے خطاب کا مقصد بھی پاکستانی حلقوں کی رائے کو امریکیوں کے سامنے پیش کرنا تھا ۔ پاکستان  کے سیاسی اور فوجی حلقے  اوباما انتظامیہ کی  پاکستان کے لیے  خاص طور سے غیر فوجی امداد   میں اضافے کی  پالیسی کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔ 

جہانگیرکرامت کہتے ہیں کہ میرے خیا ل سے وہاں پر یہ احساس ہے خاص طور سے جب سے یہ کیری لوگر بل  سامنے آیا ہے  کہ یو ایس میں یہ احساس موجود ہے کہ پاکستان کی مدد  ایک ایشو پر یا ٹرانسیکشنل قسم کی نہیں ہونی چاہیے تاکہ پاکستان کی صلاحیت میں اضافہ  ہو  اور اس سے میرے خیال میں بہت فرق پڑے گا اگر ایجوکیشن ، ہیلتھ اور اس قسم کے سیکٹرز میں بھی مدد ملنی شروع ہوجائے۔

خطے میں شورش سے نمٹنے کے لیے اب تک  زیادہ تر فوجی حل پر مرکوز امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے تناظر میں  بعض تجزیہ کار اب امریکی پالیسی میں کچھ تبدیلی دیکھ رہے ہیں ۔  ایک رائے کے مطابق اس کی بڑی وجہ عراق اور افغانستان میں امریکی موجودگی سے حا صل ہونے والے کچھ اسباق ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک حد ہوتی ہے جہاں تک ملٹری کچھ کرسکتی ہے اور اس کے بعد آ پ کو ضرورت ہوتی ہے  اس پاپولیشن کو اپنے ساتھ ملانے کی۔ پولیٹیکل انسٹرومینٹ کو استعمال کرنے کی ، اکنامک ڈیولپمینٹ ان چیزوں کی ۔ میرا خیال ہے یہ بہت بڑا سبق ہے جو سیکھا گیا ہے عراق میں اور اب   سیکھا جا رہا ہے افغانستان میں ۔

قدامت پسند  تھنک ٹینک ہیریٹیج فاونڈیشن کی سینیئر  ریسرچ فیلو   لیزا کرٹس بھی پاکستان کے لیے امریکی پالیسی میں اہم تبدیلی دیکھ رہی ہیں ۔ان کے خیال میں یہ پالیسی امریکہ کی پاکستانی عوام کی فلاح کے لیے پاکستان کے ساتھ لمبے عرصے کے عہد کی  بنیاد ہے ۔

کرٹس کا کہنا ہے کہ یو ایس کانگریس کا پاکستان  کی مدد کے لیئے غیر فوجی امداد  میں اضافہ یققیناً ان ترجیحات کا عکاس ہے جو امریکہ پاکستان سے منسلک کرتا ہے

پاکستان میں رائے عامہ کے ڈرون طیاروں کے استعمال کے شدید  خلاف  ہونے کے باوجود امریکی افواج کی جانب سے ان کا استعمال جاری ہے ۔ یہی نہیں امریکہ پاکستان کی ان طیاروں کے لیے درخواست بھی مسترد کر چکا ہے ۔ جنرل جہانگیر کرامت اس حوالے سے  اکثریتی پاکستانی رائے کے ترجمان  نظر آئے ۔

ان کا کہناتھا کہ  میرے خیال میں اگر ڈرون طیارے استعمال کرنے ہی  ہیں تو پاکستان کی مرضی سے ، پاکستان کو اس میں  شامل کرکے ۔ ڈرون طیاروں کے خلاف سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر ان کانشانہ وہ عورتیں اور بچے بنتے  ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  افغانستان میں بھی اس سے بہت نقصان ہوا ہے جس پر بہت شور مچا ہے اور پاکستان میں بھی نقصان ہوا ہے ۔

امریکی تجزیہ کار اس حوالے سے کہتے ہیں کہ امریکہ کے ان طیاروں کے استعمال پر اصرار کی بنیاد  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان سے حاصل ہونے والی کامیابیاں  ہیں  ۔

لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ پاکستان میں راہنما  عوامی سطح پر تو اس بارے میں احتجاج کرتے نظر آتے ہیں  لیکن بعض اوقات  ذاتی حیثیت میں  ان حملوں کے لیئے کچھ حمایت بھی نظر آتی ہے ۔خا ص طور سے پچھلے دو ہفتوں کے دوران  یہ طیارے  جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کے ٹھکانوں کو اپنا ہدف  بنا رہے ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ بیت اللہ محسود بے نظیر کے قتل سمیت  درجنوں خود کش حملوں کی ذمے دار ہے ۔

جب بھی  پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی افسوس ناک واقعہ رونما ہوتا ہے ،  اس  کے ایٹمی اثاثوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات آواز اٹھانے لگتے ہیں ۔تاہم جنرل جہانگیر کرامت کے مطابق افواج پاکستان ان اثاثوں کے مکمل  حفاظت کی صلا حیت رکھتی ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ کبھی بھی ایسے نہیں ہوسکتا کہ پاکستان آرمی جو کہ ایک پروفیشنل ریگولر فورس ہے  جس کے ٹریننگ انسٹی ٹیوشن ہیں ۔ اس میں اس قسم کے عناصر ہوں یا اس قسم کی سوچ  ہو  کہ ہم اپنے ہی اثاثوں کو نقصان پہنچا ئیں یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔

لیزا کرٹس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان میں دہشت گردوں کے  بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی وجہ سے  یہ خدشہ پیدا ہوا تھا کہ کہیں یہ ہتھیار  دہشت گردوں کےہاتھ نہ لگ جائیں ۔ لیکن پاکستان آرمی کے اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے قابل ہونے کے حوالے سے کوئی شک نہیں پایا جاتا ۔تاہم اس قسم کی صورت حال میں لوگوں کا پریشان ہونا قدرتی عمل ہے ۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات  میں  دہشت گردی  کے باعث پیدا ہونے والی موجودہ  صورت حال کوئی  اہم  کردار ادا کرے گی  یا نہیں، اس کے بارے میں  تجزیہ کار  وں کا کہنا ہے کہ اس کا دارومدار  موجودہ انتظامیہ کی پاکستان کے لیے پالیسی  کی کامیا بی پر ہوگا ۔