مالاکنڈ ڈویژن میں انتہاپسندوں کے خلاف راہ راست کے نام سے شروع کیے جانے والے آپریشن میں کامیابی کے بعد فوج نے اب وزیر ستان میں ان گروپوں کے خلاف راہ نجات کے نام سے کارروائیاں کررہی ہے جسے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کی کس حد تک حمایت کرتے ہیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے اتحادی ہونے کے ناطے امریکہ کا اس جنگ میں کیا کردار ہونا چاہیے؟ اس موضوع پر واشنگٹن کے تجزیہ کاروں میں بحث جاری ہے۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ سے منسلک تحقیقی ادارے ورلڈ پبلیک اوپنین کے ایک حالیہ مطالعاتی جائزے کے مطابق 87 فی صد جواب دینے والے پاکستان میں افغا نستان کے طالبان کی کارروائیوں کے خلاف ہیں ، لیکن انہوں نے افغان طالبان پر امریکی فوج کے حملوں کی بھی مذمت کی۔
رینڈ انسٹٹیوٹ کی ڈاکٹر کرسٹین فیئر نے اس تحقیق میں تعاون کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج طالبان اور انتہا پسند تنظیموں کے بارے میں پاکستانی عوام کے بدلتے ہوئے تاثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں پاکستانیوں کو اپنی سلامتی کو درپیش خطروں کا احساس ہو رہا ہے۔ لوگ انتہا پسندوں کی مذمت اور فوج کی حمایت کر رہے ہیں۔
لیکن بظاہر امریکہ کے بارے میں لوگوں کے منفی تاثرات میں بہت کم تبدیلی آئی ہے گو جواب دہندگان نے صدر بش کے مقابلے میں صدر اوباما پر زیادہ بھروسے کا اظہار کیا۔ جواب دہندگان میں سے 66 فی صد کی رائے تھی کہ امریکہ بین الاقوامی قوانین کی حمایت کرنے کے باوجود خود ان قوانین پر عمل نہیں کرتا ۔ 36 فی صد نے یہ بھی کہا کہ صدر اوباما کے اقتدار میں آنے کے باوجود پاکستان کے لیے امریکی خارجہ پالیسی میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ لیکن ڈاکٹر فیئر کہتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اپنے مفاد کے لیے لڑ رہا ہے، اور امریکہ کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ سے انسدداد دہشت گردی متاثر نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے بارے میں پاکستانیوں کی رائے جو بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شرکت اس سے متاثر نہیں ہو گی، کیونکہ پاکستان اپنے مفاد کے لیے لڑ رہا ہے۔ بلکہ اگر امریکہ کے شامل ہونے سے لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ پاکستانی حکام امریکہ کی تابعداری کر رہے ہیں۔
سروے میں القاعدہ کے بارے میں پاکستانی رائے عامہ کا جائزہ بھی لیا گیا۔ 2007 میں 62 فی صد افراد نے القاعدہ کے خطرےکا اعتراف کیا تھا، جس کی نسبت 2009 میں 82 فی صد افراد نے القاعدہ کو پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود جواب دہندگان پاکستان میں القاعدہ کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے حق میں نہیں ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اگر پاکستانی درخواست کرتے ہیں، تو ہمیں انہیں آلات اور تربیت مہیا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔
جواب دہندگان کے امریکہ کے بارے میں منفی تاثرات کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں، اور انہیں بدلنے میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کا کیا کردار ہو سکتاہے، ڈاکٹر کرسٹین فیئر کہتی ہیں کہ یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق درکار ہو گی۔