ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

عام لوگوں کی سلامتی کے بارے میں اظہارِِ تشویش

شیئر کیجیئے

اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں پھنسے عام لوگوں کی سلامتی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس علاقے میں بے گنا ہ جانوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امدادی آپریشن کے کوآرڈینیٹر مارٹن موگوانجا نے کہا کہ اقوام متحدہ کے عملے کو جنوبی وزیرستان تک رسائی نہیں ہے۔  لہذا سوفیصد درستگی سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس علاقے میں پاکستانی فوج اورعسکریت پسندوں کے درمیان جنگ میں ممکنہ طور پر کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں، کتنا نقصان ہوا ہے یا ان کی حالت زار کیا ہے۔  انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوام متحدہ کے عملے کو ان علاقوں تک رسائی دی جائے جہاں لڑائی سے متاثرہ لوگو ں کی امداد کی جاسکے۔

مارٹن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ صرف شہریوں کی ہی نہیں بلکہ خود اپنے عملے کی سلامتی کے حوالے سے بھی پوری طرح ہوش مند ہے اور یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ادارے نے مرحلہ چار کی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے غیر ملکی عملے کو فاٹا اور صوبہ سرحد سے منتقل کیا ہے۔

تاہم مارٹن کا کہنا تھا کہ مقامی عملہ بھرپور طور پر اپنا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے جس میں جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی امداد کے علاوہ مالاکنڈ ڈویژن کے بے گھر افراد کی نو آباد کاری اور تعمیر نو شامل ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مالاکنڈ سے نقل مکانی کرنے والے 26لاکھ افراد میں سے 16لاکھ واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں جب کہ دیر زیریں سمیت ان علاقوں میں واپسی کا عمل تعطل کا شکار ہے جہاں سکیورٹی فورسز اب بھی وقتاََ فوقتاََ کاروائیاں کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ ادارے نے جنگی علاقوں سے بے گھر ہونے والے افراد کو امداد کے لیے عالمی برادری سے 68کروڑ ڈالر کی جو اپیل کی تھی اس میں سے اب تک 47کروڑ 90لاکھ ڈالر حاصل ہو گئے ہین جب کہ سعودی عرب نے مزید دس کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر کے نمائندے کیلیان نے کہا کہ اب تک جنوبی وزیرستان سے جن لوگوں نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں نقل مکانی کی ہے ان کی اکثریت اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ رہ رہی ہے یا انھوں نے کرائے پر رہائش اختیار کر رکھی ہے۔  انھوں نے بتایا کہ بے گھر افراد کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے کوئی امدادی کیمپ قائم نہیں کیے گئے۔  تاہم ان متاثرین کو خوراک اور دوسری امداد فراہم کی جارہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ اب تک جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی درج شدہ تعداد ایک لاکھ 65 ہزار ہے جو آئندہ اڑھائی لاکھ تک بڑھ سکتی ہے۔