ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پٹرولیم آرڈیننس سپریم کورٹ میں چیلنج

شیئر کیجیئے

حکومت کی طرف سے ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت نافذ کردہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

 جمعہ کے روزشعیب شاہد ایڈوکیٹ کی طرف سے اپنے وکیل اکرام چوہدری کے ذریعے دائر کردہ آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ پی ڈی ایل پر حکمِ امتناعی جاری کیا جائے اور اس پر عمل درآمد اس وقت تک روکا جائے جب تک کاربن ٹیکس کے خلاف دائر اصل درخواست پر فیصلہ نہ آجائے۔

اکرام چوہدری کا کہنا تھا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پی ڈی ایل کے ذریعے اضافہ عوامی مسئلہ ہے اسی لیے کورٹ سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت جلد از جلد یعنی 13جولائی کو کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت یقیناً ٹیکس عائد کرنے کا اختیار رکھتی ہے، لیکن ایسے ٹیکس جس سے ان کے بقول عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے اور جو عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کے تحت عائد کیا جائے وہ بلا جواز ہے۔

خیا ل رہے کہ حکومت کی طرف سے وفاقی بجٹ 2009-2010ء میں پی ڈی ایل کو ختم کرتے ہوئے کاربن سرچارج عائد کیا تھا جس کے تحت پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ نے تین روز قبل کاربن ٹیکس کے خلاف دائر درخواستوں پر حتمی فیصلہ آنے تک اس پر عمل درآمد معطل کر دیا تھا۔ جب کہ صدر زرداری نے گذشتہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک آرڈیننس کے ذریعے پی ڈی ایل نافذ کر دیا جس کے بعد پٹرولیم کی قیمتوں میں ایک بارپھر اضافہ ہو گیا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حکومت اور سپریم کورٹ محاذآرائی کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم حکومتی نمائندے اس تاثر کو رد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پٹرولیم کی قیمتوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل احترام ہو گا۔