ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، سپریم کورٹ کی کارروائی چار ہفتوں کے لیے ملتوی

شیئر کیجیئے

صدر آصف علی زرداری کی طرف سے ایک آرڈیننس کے ذریعے پٹر ولیم مصنوعات پر ڈویلپمنٹ لیوی کے نفاذ کے بعد تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کردیا گیا ہے ۔ آرڈیننس فوری طور پر نافذالعمل ہو گیا ہے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی ”اوگرا“ نے تیل کی قیمتوں میں اُتنا ہی اضافہ کردیا ہے جتناکہ سپریم کورٹ کی جانب سے تیل کی مصنوعات پرعائد کاربن ٹیکس کی عارضی معطلی کے بعد قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔

صدراتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ پٹر ولیم ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے متصادم نہیں بلکہ اُن کے بقول عدلیہ کا احترام کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں پر کاربن ٹیکس کا نفاذ معطل کردیا گیا ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ نیا صدارتی آرڈیننس پارلیمان کی بالادستی اور اُس کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔

اُدھر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت چار ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ منگل کو عدالت عظمٰی کے اسی بنچ نے حالیہ بجٹ میں پٹر ولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کے نفاذ کے خلاف دائردرخواستوں پر حتمی فیصلے تک اس ٹیکس کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد کے ایک ہی روز بعد صدر نے ایک نئے ڈویلپمنٹ لیوی آرڈیننس کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف دائر درخواستوں کی پیروی کرنے والے ایک وکیل اکرام چوہدری نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
 

رائے اور تبصرہ (0)

اپنی رائے ارسال کیجئے

* لازمی



آپ اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آپ کے تبصرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور ممکن ہے اسے شائع نہ کیا جائے۔ وی او اے آپ کے تبصرے کو دنیا بھر میں نشر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ استعمال اور پرائیویسی نوٹس