ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • منگل, 24 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

پٹرولیم مصنوعات پر ”کاربن ٹیکس“ معطل

شیئر کیجیئے

حکومت کی طرف سے یکم جولائی سے پٹر ولیم مصنوعات پر عائد کاربن ٹیکس کے نفاذ کے خلاف دائردرخواستوں پر حتمی فیصلے تک سپریم کورٹ نے اس اضافی ٹیکس کو بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ منگل کو اس مقدمے کی تقریباً پانچ گھنٹوں تک ابتدائی سماعت کے بعد عدالت عظمٰی نے اپنے مختصر فیصلے میں تیل اور گیس کے انتظامی ادارے ”اوگرا“ کو حکم دیا ہے کہ وہ پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرکے پرانی قیمتوں کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کر دے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ا ن درخواستو ں کی سماعت کرنے والے بنچ نے آئندہ سماعت کے لیے جمعرات کا دن مقر ر کیا ہے۔عدالتی فیصلے کے بعد ایک درخواست گزار کے وکیل چوہدری اکرام نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سپریم کورٹ کے فیصلے پر بدھ سے عمل درآمد شروع ہو گا اور اُن کے بقول پٹر ولیم مصنوعات کی قیمتوں میںآ ٹھ سے د س روپے کمی ہو گی۔اُنھوں نے کہا کہ مقدمے کی آئندہ سماعت میں اٹارنی جنرل اور ”اوگرا“ کے عہدیدار حکومت کی طرف سے اپنا جواب داخل کرائیں گے۔

سرکاری وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ کاربن ٹیکس کا نفاذ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے لگایا گیا ہے لیکن جب چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وزرات ماحولیات نے حکومت کو باضابط طور پر ماحول کو محفوظ بنانے کی ایسی کوئی درخواست کی ہے تو اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کو دیے گئے اپنے فوری ردعمل میں وزیراعظم کے مشیر برائے پٹر ولیم ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ عدالت عظمٰی طرف سے حکم نامہ موصول ہونے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا اور جو ٹیکس ختم کرنے کا حکم دیا ہے اُس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

منگل کو اس مقدمے کی سماعت کے دروران کمرہ عدالت میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی ایک خاتون رہنما رخسانہ زبیری بھی موجود تھیں۔اُنھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کاربن ٹیکس کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام توانائی کی بچت کی کوششوں کا حصہ ہے اورایسے ٹیکسوں کا نفاذ حکومت کا حق ہے ۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اکرم شیخ نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ عدالت عظمی کا فیصلہ انتطامی معاملات میں مداخلت ہے ۔ عدالت عظمی کے باہر صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ 2005ء سے عدالت تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرتی آرہی اور ایسے میں حکومت کی طرف سے قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافے کا اقدام عدالت اُمور میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

 اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے وفاقی بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن ٹیکس کے نفاذ کا مقصد بجٹ خسارے کو کم کرنا تھا لیکن اس ٹیکس کے مخالفیں کا موقف ہے کہ اس فیصلے سے آئندہ آنے والے دنوں میں عام آدمی براہ راست متاثر ہوگا ۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ فیصلے پر پاکستانی عوام نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بلکہ کھانے پینے کی اشیاء میں بھی اضافہ ہو گا جس سے غریب آدمی کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔