ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

امن و امان بہتر ہونے پر بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے: نثار کھوڑو

شیئر کیجیئے

پاکستان میں حکومت کو شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں  اور ان کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی مدد اور بحالی کے علاوہ بھی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ جن میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر لوگوں کی برہمی ،بجلی کا بحران،غیر ضروری سرکاری اخراجات اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کا التوا شامل ہیں۔ وائس آف امریکہ نے حکمران جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ اسمبلی کے سپیکر نثار کھوڑوسے، جوان دنوں امریکہ آئے ہیں، ایک خصوصی انٹرویو کیا۔

پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کو بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے جو ہر گذرتے دن کےساتھ شدید سے شدید تر ہوتا جارہاہے۔ اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر نثار کھوڑو کاکہنا تھا کہ بجلی کے بحران کی جڑیں مشرف کے دور اقتدار میں پیوست ہیں۔ اپنے آٹھ سالہ عہد میں انہوں نے ملک میں کوئی نیا پاور پلانٹ نہیں لگایا جب کہ ہر سال بجلی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا جس کا نتیجہ موجودہ بحران کی شکل میں برآمد ہوا۔ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے نئے پاور پلانٹس کی منصوبہ بندی کی ہے۔ یہ عمل آگے بڑھ رہاہے۔ انرجی جنریٹنگ یونٹس کی تنصیب میں کچھ وقت لگتا ہے۔ جب نئے یونٹ کام شروع کردیں گے تو یہ بحران ختم ہوجائے گا۔

حال ہی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت نئے بلدیاتی انتخابات فی الحال نہیں کروائے گی بلکہ مقامی حکومتوں کا نظام چلانے کے لیے سرکاری عہداروں کا تقرر کرےگی۔اس سوال پر کہ  ایک جمہوری حکومت ، انتخابات سے کیوں بچنا چاہ رہی ہے، نثار کھوڑو کا کہناتھا کہ یہ اقدام مجبوری میں اٹھایا جارہاہے۔ اس وقت ملک میں امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ فوج قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کررہی ہے اور ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے خطرات موجود ہیں۔حکومت ایسی صورت حال میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔ جیسے ہی امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئے گی، مقامی حکومتوں کے انتخابات کروا دیے جائیں گے۔

سندھ اسمبلی کے سپیکر نثار کھوڑو سے ایک اور سوال بجٹ کے موقع پر اخراجات کی کٹوتیوں سے متعلق حزب اختلاف کی تحریکوں سے تھا۔ حکومت نےان  کٹوتیوں کو مسترد کردیا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کٹوتیوں کو مسترد کرنے سے کیا حکومت کے غیر پیداوار ی اخراجات میں اضافہ نہیں ہوا تو نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ بجٹ بناتے وقت حکومت بہت سے عوامل اپنے پیش نظر رکھتی ہے۔ جس میں اخراجات کے ساتھ ساتھ آمدنی کے ذرائع میں اضافہ بھی شامل ہوتا ہے۔کٹوتیوں کے مطالبات اس لیے مسترد کیے گئے کیونکہ حکومت ان شعبوں میں اخراجات کو ضروری سمجھتی تھی اور حکومت کو یہ بھی توقع تھی کہ وہ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ان اخراجات کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

سابق وزیر اطلاعات  محمود درانی نے چند ہفتے قبل بہاول پور صوبے کے قیام کامطالبہ کرکےایک نئی سیاسی ہلچل پیدا کردی ہے اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کررہی ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کی سوچ پر اظہار کرتے ہوئے نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس موقع پر نئے صوبوں کے قیام کے حق میں نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ پھر ایک صوبے تک نہیں رکے گا بلکہ بہت آگے تک جائےگا۔ ان کا کہناتھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے ان کی اسمبلیوں، وزراء اورگورنر ز، غرض کئی طرح کے نئے اخراجات قومی وسائل پر ایک نئے بوجھ کی شکل میں ظاہر ہوں گے ۔ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال اس طرح کے نئے اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔