ہمارے بارے میں | ہم سے رابطہ کیجیے

وائس آف امریکہ

غیر جانب دار خبریں | دلچسپ معلومات

blank

  • ہفتہ, 07 نومبر 2009
  • آج وی او اے پر

پاکستان RSS Feeds آر ایس ایس فیڈ

کراچی میں پہلی شش ماہی کے دوران ایک سو سے زائد سیاسی کارکن قتل

شیئر کیجیئے

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے شعبہٴ سندھ کے مطابق کراچی میں رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران قتل و غارت گری اور حادثاتی اموات میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 21.34 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

کمیشن کی جانب سے کراچی میں پہلی شش ماہی کے دوران مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں اس دوران 938 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں ایک سو سے زائد سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ جب کہ اسی عرصے کے دوران گذشتہ سال ہلاک ہونے والوں کی تعداد 773 تھی۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے سیاسی کارکنوں کا تعلق مختلف جماعتوں سے ہے اور سب سے زیادہ قتل کے واقعات رواں سال جون کے مہینے میں پیش آئے۔گذشتہ سال مجموعی طور پر یہ تعداد 74 تھی سیاسی کارکنوں کے قتل کے یہ اعداد و شمار شہر میں سیاسی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کی تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں۔
 
ادارے کی جانب جاری گئے اعداوشمار کے مطابق دیگر واقعات میں ذاتی دشمنی کی بنا پر 98 افراد قتل ہوئے۔ اسی دوران 70 افراد ڈکیتی کے دوران ہلاک ہوئے، 51 افراد کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا اور اتنی ہی تعداد میں افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے۔ شہر میں مختلف مقامات سے 49 افراد کی لاشیں ملیں، 13 افراد نا معلوم سمت سے آنے والی گولیوں کا نشانہ بنے جب کہ 17 ریل کی زد میں آ کر اپنی جان کھو بیٹھے۔اس عرصے کے دوران پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 45 رہی، جب کہ خود 25 پولیس اہل کار موت کے گھاٹ اتر گئے۔ جب کہ پولیس کے تشدد سے چھ افراد کا قتل ہوا۔ لیاری گینگ وار نے پہلی شش ماہی کے دوران 18 افراد کی جان لی اور لسانی فسادات میں 49 افراد کا خون ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران خواتین کے قتل کے واقعات میں 83 فیصد اضافہ ہوا جب کہ بچوں میں یہ تناسب 162 فیصد رہا۔ اس سال کراچی میں 119 خواتین قتل ہوئیں اور 84بچے موت کا شکار ہوئے جب کہ گذشتہ سال خواتین میں یہ تعداد 65 اور بچوں میں 32 تھی۔

رپورٹ میں بڑی تعداد میں سیاسی کارکنوں کے قتل اور نارتھ کراچی میں جھونپڑیوں میں آتش زدگی کے باعث ہونی والی ہلاکتوں کو اب تک رواں سال کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس واقعے میں 20 بچے، 12 خواتین اور 10 مرد جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے تاہم آگ لگنے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں۔