دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔ ایسے میں امریکی تجزیہ نگار بھی پاکستان کی تازہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے سینٹر فار ایڈوانسڈ سٹڈیز آن ٹیررزم سے منسلک سینئیر فیلو فرحانہ علی نے کہا ہے کہ ملٹری آپریشن کے بعد مالاکنڈ اور دیر کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لئے ان علاقوں میں فوج کی موجودگی بہت اہم ہے۔
دہشت گردی سے متعلق امور کی ماہر فرحانہ علی کا کہنا ہے کہ سوات اور بنیر کے علاقوں میں سیکیورٹی کی یقینی بنانے کے لیے کچھ فوجی دستوں کا وہاں رہنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے انتظامات کے علاوہ حکومت کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں فرحانہ علی نے کہا کہ بیت اللہ محسود اور دوسرے عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی اور مالی امداد کے بارے میں حتمی طورپر کسی کا نام لینا مشکل ہے لیکن پاکستان کے پڑوسی ممالک کے علاوہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی اپنے مفادات کے لیے خطے میں سرگرم ہیں۔
فرحانہ علی کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کو احساس ہے کہ ان کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں سے انہیں فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہورہاہے۔ لیکن فی الحال وہ ان حملوں کو نہیں روکیں گے اور یہ حملے مزید کچھ عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔